Al-Risala · March 1984 · page 7

حقیقت پسندی نہ کہ شوق

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۷

حقیقت پسندی نہ کہ شوق

شہد کی مکھیاں اپنا چھتہ جہاں بناتی ہیں، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پھولوں کا مقام اس سے کئی میل دور ہوتا ہے۔ ایک پھول میں بہت تھوڑی مقدار رس کی ہوتی ہے۔ اس لیے بھی اس کو بہت دور دور تک جانا ہوتا ہے تاکہ بہت سے پھولوں کا رس چوس کر اپنی مقدار حاصل کرسکے۔ شہد جمع کرنے والی مکھی سارے دن اڑ انیں بھرتی ہے تاکہ وہ ایک ایک پھول کا رس نکالے اور اس کو لا کر اپنے چھتہ میں جمع کرے ۔ مشاہدہ سے معلوم ہوا ہے کہ شہد کی مکھی صبح جب اپنے پہلے سفر پر نکلتی ہے تو اندھیرے میں روانہ ہوتی ہے۔ مگر شام کو جب پھولوں کے مقام سے وہ اپنی آخری باری کے لئے چلتی ہے تو اس کا یہ سفر نسبتاً اجالے میں ہوتا ہے۔ پہلی باری کے لئے اندھیرے میں چلنا اور آخری باری کے لئے اجالے میں سفر شروع کرنا کیوں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ دونوں وقتوں کا فرق ہے۔ صبح کے وقت سفر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اندھیرے سے اجالے کی طرف جارہی ہے۔ جب کہ شام کے وقت سفر کا مطلب اجالے سے اندھیرے کی طرف جانا ہے۔ شہد کی مکھی وقت کے اس فرق کو ملحوظ رکھتی ہے اور اس کی پوری طرح رعایت کرتی ہے۔ شہد کی مکھی اپنے طے سفر کو چونکہ سورج کی روشنی ہی میں صحیح صحیح انجام دے سکتی ہے۔ اندھیرے میں میں اس کا امکان رہتا ہے کہ وہ بھٹک جائے اور اپنی منزل پر نہ پہنچے، اس لئے صبح کو وہ اپنی پہلی باری اندھیرے میں شروع کر دیتی ہے۔ کیوں کہ وہ جانتی ہے کہ اگلے لمحات اجالے کے لمحات ہوں گے ۔ اس کے برعکس شام کو اپنی آخری باری کے لئے وہ اجالا رہتے ہوئے چل پڑتی ہے ۔ کیوں کہ وہ جانتی ہے کہ جتنی دیر ہوگی اتنا ہی اندھیرا بڑھتا چلا جائے گا۔ یہ قدرت کا سبق ہے۔ اس طرح قدرت بتاتی ہے کہ زندگی میں، ہمارا ہر قدم حقائق کی بنیاد پر اٹھنا چاہئے نہ کہ خوش فہمیوں اور موہوم امید وں کی بنیاد پر۔ آنے والے لمحات کبھی " اندھیرے " کے لمحات ہوتے ہیں اور کبھی " اجالے " کے لمحات ، اگر اس فرق کی رعایت نہ کی جائے اور آنے والے لمحات کا لحاظ کئے بغیر بے خبری میں سفر شروع کر دیا جائے تو آنے والا لمحہ ہماری رعایت نہیں کرے گا۔ وہ اپنے نظام کے تحت آئے گانہ کہ ہماری خوش فہمیوں کے تحت نتیجہ یہ ہوگا کہ کبھی ہم سمجھیں گے کہ ہم روشن مستقبل اور شاندار انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حالانکہ اگلا لمحہ جب آئے گا تومعلوم ہوگا کہ ہم صرف اندھیروں کی طرف بڑھ رہے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page