Al-Risala · March 1984 · page 6

ناموافق حالات

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۶

ناموافق حالات

جانوروں کو جنگل کے ماحول میں ہر وقت اپنے دشمنوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ ہر وقت چوکس رہتے ہیں۔ یہ چوکنا رہنا ان کے لئے بہت ضروری ہے۔ اس کی وجہ سے ان کی فطری صلاحیتیں ابھرتی ہیں۔ ان کی شخصیت ختم ہونے نہیں پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ جانوروں کو پالنے کے لئے جو بڑے بڑے پارک بنتے ہیں ان میں مصنوعی طور پر ان کے لئے خطرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مثلاً خرگوش کے پارک میں بلی ڈال دی جاتی ہے یا ہرن کے پارک میں ایک شیر یا ایک بھیڑیا ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طرح جانوروں کی چوکی (Alertness) باقی رہتی ہے۔ وہ اپنے تحفظ کی خاطر ہر وقت زندہ اور سرگرم رہتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو دھیرے دھیرے وہ کچھ کر رہ جائیں گے۔

یہی بات انسانوں کے لئے بھی صحیح ہے۔ انسان کے اندر بے شمار صلاحیتیں ہیں۔ یہ صلاحیتیں عام حالات میں سوئی رہتی ہیں۔ وہ بیدار اس وقت ہوتی ہیں جب ان کو جھٹکا لگے۔ جب وہ عمل میں آئیں، کسی بھی مقام پر اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ جن خاندانوں میں آسودگی کے حالات آجاتے ہیں اس کے افراد بے حس اور کم عقل ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جن خاندانوں کو مشکل حالات گھیرے ہوئے ہوں ان کے افراد میں ہر قسم کی ذہنی اور عملی صلاحیتیں زیادہ اجاگر ہوتی ہیں۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ وہ اپنے ماحول میں عدم تحفظ کی صورت حال میں مبتلا ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں مکہ اور مدینہ کے مسلمان اس سے کہیں زیادہ عدم تحفظ کی صورت حال میں مبتلا تھے۔ اگر عدم تحفظ کوئی ”برائی“ ہوتی تو یقیناً اللہ کا رسول، اور اس کے اصحاب کہیں زیادہ اس کے مستحق تھے کہ اللہ انہیں اس برائی سے دور رکھے۔ مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ ان کو مسلسل عدم تحفظ کی صورت حال میں رکھا۔ ان کو اپنی زندگی میں کبھی چین اور آسودگی نہ مل سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا نظام اللہ تعالیٰ نے جس ڈھنگ پر بنایا ہے وہ یہی ہے کہ یہاں دبنے سے ابھار پیدا ہو۔ مشکلوں کے مدرسہ میں انسان کی اعلیٰ تربیت ہو۔ غیر محفوظ حالات کے اندر مستعدی کا ظہور ہو۔

تاریخ بتاتی ہے کہ انھیں لوگوں نے بڑی بڑی ترقیاں حاصل کیں جو حالات کے دباؤ میں مبتلا تھے۔ قدرت کا یہی قانون افراد کے لئے ہے اور یہی قوموں کے لئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page