اور تالا کھل گیا
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۹
اور تالا کھل گیا
اس کی ناکام کوشش اب جھنجھلاہٹ میں تبدیل ہو چکی تھی۔ وہ کافی دیر سے تالے کے ساتھ زور آزمائی کر رہا تھا۔ یقیناً تالے کی خرابی ہے جس کی وجہ سے یہ نہیں کھل رہا ہے۔ اس نے سوچا "رفیق صاحب کو بھی اس کے سوا کوئی تالا نہیں ملتا تھا۔ ساری کفایت ان کو بس تالے ہی میں کرنی تھی" اس کے بعد اس نے ملکی صنعت کو کوسنا شروع کر دیا۔ ہمارے صنعت کار صرف چیزوں کی شکلیں بناتے ہیں اور ان کو دکھا کر گاہکوں سے پیسے وصول کرتے ہیں۔ ان کو اس سے غرض نہیں کہ گھر پہنچ کر وہ گاہک کے کام بھی دیں گی یا نہیں یہ جھنجھلاہٹ میں طرح طرح کے الفاظ اس کی زبان پر آ رہے تھے اس کا غصہ اب اس مقام پر پہنچ چکا تھا کہ اگلا مرحلہ یہ تھا کہ تالا کھولنے کے لئے وہ کہنی کے بجائے ہتھوڑے کا استعمال شروع کر دے۔
اتنے میں اس کے میزبان رفیق صاحب آگئے "کیا تالا نہیں کھل رہا ہے! " انھوں نے کنجی اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ اچھا آپ کنجی غلط لگا رہے تھے۔ اصل میں آج ہی میں نے تالا بدل دیا ہے۔ مگر کنجی چھلّے میں ڈالنا بھول گیا ۔ اس کی کنجی دوسری ہے۔ اس کے بعد وہ دوڑ کر دوسری کنجی لائے اور دم بھر میں تالا کھل گیا۔
ایسا ہی کچھ حال موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ہو رہا ہے موجودہ زمانہ نے زندگی کے دروازوں کے تالے بدل دئے ہیں۔ مگر ان کا حال یہ ہے کہ پرانی کنجیوں کا گچھا لئے ہوئے تالوں کے ساتھ زور آزمائی کر رہے ہیں۔ اور جب پرانی کنجیوں سے نئے تالے نہیں کھلتے تو کبھی تالا بنانے والے پر اور کبھی سارے ماحول پر خفا ہوتے ہیں۔ حالانکہ محض غصہ اور نفرت کی بنا پر ایسا نہیں ہو سکتا کہ پرانی کنجیوں سے نئے تالے کھل جائیں۔
ہمارے تمام قائدین کا یہ حال ہے کہ ہر ایک نے اپنے ذوق کے مطابق کچھ اسلام دشمن" تلاش کر رکھے ہیں اور ان مفروضہ دشمنوں کی سازش کو مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا سبب سمجھتے ہیں۔ مگر خدا کی دنیا میں اس سے زیادہ بے معنی بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ یہاں ہر شخص اور ہر قوم کو صرف اپنی کو تاہیوں کی سزا ملتی ہے۔ اس دنیا میں ہر حادثہ جو کسی کے ساتھ پیش آتا ہے وہ اس کی اپنی کی کمزوری کی قیمت ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہماری اکثر مصیبتیں زمانہ سے عدم مطابقت کی قیمت ہیں۔ اگر ہم اس عدم مطابقت کو ختم کر دیں تو آپ سے آپ موجودہ حالات ختم ہو جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues