اور تالا کھل گیا
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۱۰
واقعیت پسندی اور حقیقت نگاری کے دور میں جذباتی تقریریں اور تحریریں، اہلیت کی بنا پر حقوق حاصل کرنے کے دور میں رعایت اور ریزرویشن کی باتیں، اکثریتی حکمرانی کے نظام میں اقلیتوں کے لئے قائدانہ رول ادا کرنے کے نعرے، تعمیری استحکام کے ذریعہ اوپر اٹھنے کے دور میں جلسوں اور جلوسوں کے ذریعہ قوم کا مستقبل برآمد کرنے کی کوشش، سماجی بنیادوں کی اہمیت کے زمانہ میں سیاسی سودے بازی کے ذریعہ ترقی کے منصوبے، یہ سب اسی کی مثالیں ہیں۔ یہ ماضی کے معیاروں پر حال کی دنیا سے اپنے لئے زندگی کا حق وصول کرنا ہے۔ جو کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ آج کا "نیا تالا" ان "پرانی کنجیوں" سے نہیں کھلتا۔ اس لئے دوسرا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم جھنجھلاہٹ اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا اپنے ظلم اور تعصب کی وجہ سے ہمیں کچھ دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ آج پوری مسلم قوم ایک قسم کی نفسیاتی مریض ہو کر رہ گئی ہے۔ اور اس المیہ کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے زمانہ کے تقاضے پورے نہیں کئے اس لئے زمانے نے بھی ہمیں اپنے اندر جگہ نہیں دی۔ بدلے ہوئے زمانہ میں ہم ایک ردی ہوئی قوم بن کر رہ گئے۔
اعلان
بعض کتابوں کی قیمت میں تبدیلی کی گئی ہے۔ موجودہ قیمت درج ذیل ہے:
مذہب اور جدید چیلنج ۲۵ روپے ظهور اسلام ۲۵ روپے احیار اسلام ۱۵ روپے پیغمبر انقلاب (عام ایڈیشن) ۲۵ روپے پیغمبر انقلاب (ڈیلکس ایڈیشن) ۵۰ روپے تعارف اسلام ۳ روپے انسان اپنے کو پہچان ۲ روپے مکتبہ الرساله جمعیته بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی۔ 6 ۶
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues