آزمودہ حل
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۱۱
آزمودہ حل
رابرٹ ملتهوف (Robert Multhoff) کا ایک بہت با معنی قول ہے۔ اس نے کہا کہ جو شخص تعمیم کو پسند کرتا ہے وہ عموماً جھوٹ بولتا ہے:
He who likes to generalize generally lies.
ایک تنہا واقعہ کو اگر آپ عمومی انداز میں بیان کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ استثناء کو عموم کی حیثیت دے رہے ہیں۔ ایک حادثہ جو کسی اتفاقی سبب سے پیش آیا ہے اس کو سماج کی عام حالت قرار دے رہے ہیں۔ ایسا آدمی ہمیشہ جھوٹ کی فضا میں رہتا ہے۔ وہ نہ ککبھی سچائی کو پاتا اور نہ معاملہ کے سچے حل کو۔
ہمارے بہت سے اخبارات ہیں جن میں آپ کو اس قسم کی سرخیاں پڑھنے کو ملیں گے۔ ہندوستان میں فرقہ وارانہ فساد، علی گڑھ میں فرقہ وارانہ فساد، حیدر آباد میں فرقہ وارانہ فساد۔ اس قسم کی خبریں صحیح ہونے کے باوجود ہمیشہ غلط ہوتی ہیں۔ وہ آدھی سچائی ہوتی ہیں نہ کہ پوری سچائی۔ کیوں کہ کوئی فساد بھی پورے ملک یا پورے شہر میں نہیں ہوتا۔ مگر ہمارے لکھنے اور بولنے والے ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جس سے بظاہر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ پورا ملک یا پورا شہر فرقہ وارانہ فساد کی زد میں آگیا ہے۔ جب بھی کہیں فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو وہ نہ سارے ہندوستان میں ہوتا اور نہ کسی پورے شہر میں۔ مثلاً اس قسم کے فساد تقریباً سب کے سب ہندوستان کے شمالی حصہ میں ہوتے ہیں۔ ہندوستان کا جنوبی حصہ ہمیشہ اس سے محفوظ رہتا ہے۔ اسی طرح مثلاً علی گڑھ میں فساد ہوا تو وہ پرانے شہر میں ہوا۔ سول لائن کے علاقہ میں کوئی فساد نہیں ہوا۔ اسی طرح حیدر آباد کا فساد قدیم حیدر آباد کے علاقہ میں ہوا۔ نیا حیدر آباد اس سے بچارہا۔
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بالا قسم کی خبریں ہمیشہ "جھوٹ" ہوتی ہیں۔ اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہمارے قائدین آج تک اس مسئلہ کا سچا حل دریافت نہ کر سکے۔ چونکہ اپنے ذہن کے مطابق وہ "پورے" ملک یا "پورے" شہر میں فساد فرض کئے ہوئے ہیں اس لئے ان کو وہ غیر فساد زدہ حصہ نظر نہیں آتا جہاں فساد نہ ہوئے۔ کے اسباب کی تحقیق کر کے وہ اس کے مطابق فساد زدہ حصہ کو فساد سے بچانے کی تدبیر کر سکیں۔
ایک ہی شہر کے ایک حصہ میں فساد ہو اور اسی شہر کے دوسرے حصہ میں فساد نہ ہو تو یقیناً
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues