He who likes to generalize generally lies.
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۱۳
کے جھگڑے کھڑے کرنا وغیرہ ۔ اسی طرح یہ کیا جائے کہ "قدیم شہر" میں "جدید شہر" کے حالات پیدا کئے جائیں ۔ یعنی اقلیتی فرقہ کے افراد کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنایا جائے ان کی اقتصادیات کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جائیں ۔ ایسی چیزوں نے ملک کے ایک حصہ میں فساد کو روک رکھا ہے اور یہی چیزیں ملک کے دوسرے حصہ میں بھی فساد کو روک سکتی ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کو ختم کرنے کے لئے ہمیں کوئی نیا حل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اسی آزمودہ تد بیر کو فساد زدہ علاقہ میں بھی استعمال کریں جو غیر فساد زدہ علاقہ میں آج بھی فرقہ وارانہ فساد کے خلاف ڈاٹ بنی ہوئی ہے ۔ دہلی کے ایک مسلم محلہ میں ایک اردو پو سٹر نظر سے گذرا ۔ سرخی یہ تھی :
” آگ اور خون میں نہائے ہوئے ہندوستانی سلمان سوال کرتے ہیں “ یورپ کے سفر میں ایک مقام پر میں نے دیکھا کہ ایک پر جوش نو جوان عربی اور انگریزی میں چھپا ہوا ایک کتا بچہ تقسیم کررہے ہیں ۔ اس کے صفحہ اول پر یہ الفاظ درج تھے :
” ہندوستان جو مسلمانوں کے لئے عظیم مذبح بن چکا ہے “ ہندوستان میں جزئی طور پر ضرور ایسے بعض واقعات ہوئے ہیں جن پر مذکورہ بالا الفاظ صادق آتے ہیں مگر پورے ملک کے بارہ میں اس قسم کے الفاظ بولنا سرا سر خلاف واقعہ ہے۔ اور جو لوگ خلاف واقعہ بات پر اپنی عمارت کھڑی کرنا چاہیں وہ یقینی طور پر خدا کی مدد نہیں پا سکتے ۔ اس طرح سوچنے اور بولنے میں ایک نقصان یہ ہے کہ آدمی کبھی مسئلہ کے صحیح حل تک نہیں پہنچتا۔ " مسئلہ کا حل کیا ہے " اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی یہ جانے کہ " مسئلہ کی نوعیت کیا ہے ؟ مسئلہ کی نوعیت کو جانے بغیر مسئلہ کا حل متعین نہیں کیا جاسکتا ۔ مذکورہ طرز پر سوچنے والے اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ مسئلہ کی نوعیت دریافت نہ کر سکے۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ وہ مسئلہ کا حل پاسکیں ۔
دوسرا نقصان یہ ہے کہ یہ طرز کلام آدمی سے حقیقت پسندی چھین لیتا ہے ۔ دنیا کا نظام اس کے پیدا کرنے والے نے کامل حقیقت پسندی کی بنیاد پر قائم کیا ہے ۔ یہاں کوئی نتیجہ پیدا کرنے کے لئے اصول فطرت سے کلی مٹا بقست ضروری ہے ۔ ایسی حالت میں جو لوگ دوسروں پر جھوٹا الزام دینے کو اپنا طریقِ کار بنائیں وہ یقینی طور پر حقیقت پسندی سے محروم ہو جاتے ہیں ، ایسے لوگوں کا انجام اس کے سوا اور کیا ہے کہ نہ حقیقت رہی نہ دنیا رہی ، بے حقیقت ہو کر رہ جائیں ا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues