Al-Risala · March 1984 · page 14

جواب کا صحیح طریقہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۱۴

جواب کا صحیح طریقہ

مولانا محمد ہاشم القاسمی نے بتایا کہ وہ ایک مقام پر گئے۔ وہاں ایک مسجد میں انہوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد وہ وہاں بیٹھ گئے۔ اس وقت وہاں تقریباً پندرہ آدمی تھے۔ "الرسالہ" کا ذکر آیا تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: "ہاں! میں الرسالہ کو جانتا ہوں۔ وہ تو ایک نیم مذہبی پر چہ ہے اس کو خالص دینی پرچہ نہیں کہہ سکتے۔ "

اس کے بعد انہوں نے با آواز بلند الرسالہ کے خلاف تقریر شروع کر دی۔ تاہم مولانا قاسمی صاحب برہم نہیں ہوئے۔ انہوں نے خاموشی سے اپنی جیب سے تین روپیہ نکالا اور اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ بازار میں فلاں اسٹال پر الرسالہ فروخت ہو رہا ہے۔ وہاں سے ایک شمارہ لے کر آجاؤ۔ آدمی نے پوچھا کہ کس مہینہ کا شمارہ۔ انھوں نے کہا جس مہینہ کا بھی مل جائے۔ تھوڑی دیر کے بعد جولائی ۱۹۸۲ کا شمارہ ان کے ہاتھ میں تھا۔

اب مولانا قاسمی نے کہا: "دیکھئے یہ جولائی ۱۹۸۲ء کا الرسالہ ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اس کے اوراق کھول کھول کر ایک ایک سرخی پڑھنی شروع کی اور مذکورہ بزرگ سے پوچھا کہ بتائے ان میں سے کون سا مضمون آپ کے خیال میں نیم مذہبی ہے۔ عنوانات یہ تھے: جنت کا دروازہ ، روزہ کی حقیقت ہر طرف فریب، شناختی کارڈ کے بغیر۔

"شناختی کارڈ کے بغیر" کے الفاظ سن کر مذکورہ بزرگ فوراً بولے ۔ اس کو دیکھیے یہ نیم مذہبی نہیں تو اور کیا ہے۔ شناختی کارڈ کا دین اور مذہب سے کیا تعلق۔

مولانا قاسمی نے کہا کہ آپ کے بیان کے مطابق یہ مضمون یقینی طور پر نیم مذہبی ہے ۔ اب میں اس مضمون کو پڑھتا ہوں۔ آپ بھی سنیں اور سب حاضرین سنیں اور اس کے بعد فیصلہ کریں۔ اس مضمون کا تقریباً نصف حصہ ایک واقعہ پر مشتمل ہے۔ مولانا قاسمی جب نصف تک پہنچے تو مذکورہ بزرگ نے پھر بولنا شروع کیا۔ مولانا قاسمی نے کہا: آپ تھوڑی دیر رکئے ۔ میں پورا مضمون پڑھ دوں۔ اس کے بعد آپ تبصرہ کریں۔ اس کے بعد انھوں نے اگلی سطریں پڑھنی شروع کیں تو وہ سراسر آخرت سے متعلق تھا، اب جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہے تھے مذکورہ بزرگ ٹھنڈے ہوتے جا رہے تھے، یہاں تک کہ جب مضمون ختم ہوا تو وہ بالکل لاجواب ہو چکے تھے۔ تمام حاضرین کہہ اٹھے کہ یہ تو سراسر مذہبی بات ہے۔ اور نہایت موثر انداز میں ہے۔ پھر اس پر اعتراض کیا۔ ۴۱

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page