Al-Risala · March 1984 · page 20

ناقابل توجیہہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۲۰

ناقابل توجیہہ

انسانی دماغ اتنا زیادہ پیچیدہ ہے کہ بے شمار تحقیقات کے باوجود آج بھی ہم اس کے بارہ میں بہت کم جانتے ہیں۔ ایک محقق کے الفاظ میں، دماغ کے بارہ میں ہمارا علم جتنا بڑھتا ہے اتنا ہی زیادہ پتہ چلتا ہے کہ ہم کتنا کم جانتے ہیں اور ابھی کتنا ز یادہ جاننا باقی ہے: The more we know the more we realize how little we know and how much more we need to know. تحقیقات بتاتی ہیں کہ آئن سٹائن جیسے عبقری انسان جنہوں نے بظاہر اپنی ذہنی صلاحیت کو آخری حد تک استعمال کیا، انہوں نے بھی حقیقتاً اپنے دماغ (Brain) کا بہت چھوٹا سا حصہ استعمال کیا۔ ان کے دماغ کا بیشتر حصہ غیر استعمال شدہ رہا، یہاں تک کہ ان کی موت آگئی۔ اس کی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فطرت نے کیوں اور کیسے ارتقائی عمل کے ذریعہ اس معجزاتی چیز کو پیدا کیا جس کو دماغ کہا جاتا ہے:

Why and how then has nature produced through the evolutionary process this marvellous thing called the human brain. کہا جاتا ہے کہ ضرورت اور استعمال سے چیزیں ترقی کرتی ہیں۔ مگر جو دماغ سرے سے استعمال ہی نہیں ہوا وہ کیسے وجود میں آیا۔ ڈارونزم کا کہنا ہے کہ جسمانی اعضاء اور دماغ پہلے سے پیدا شدہ موجود نہیں تھے۔ وہ حالات کے مقابلہ میں زندہ رہنے کی کوشش کے دوران وجود میں آئے ہیں: The human organism, including the brain, has developed in response to the challenges it has faced in its effort to survive. مگر سوال یہ ہے کہ دماغ کے جو حصے سے کبھی استعمال ہی نہیں ہوئے وہ آخر کیسے وجود میں آکر ترقی کرنے لگے۔ جب ”استعمال“ چیزوں کا خالق ہے تو ”عدم استعمال“ نے کس طرح چیزوں کو پیدا کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر استعمال شدہ دماغ کا ہر انسان کے ساتھ پیدا ہونا اور مسلسل موجود رہنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ خارج سے انسان کو دئے جا رہے ہیں نہ کہ انسانی کوشش سے اس کو حاصل ہو رہے ہیں غیر استعمالی دماغ کی موجودگی ڈارون کے اس نظریہ کی نفی کر رہی ہے کہ فطرت میں بہتر اصلح (Survival of the fittest) اور انتخابی طریق عمل (Selection process) پایا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page