Al-Risala · March 1984 · page 21

غلط تعارف

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۲۱

غلط تعارف

قرآن کی تعلیمات پر ہمارے ادارہ کی ایک انگریزی کتاب دار السلطنت کے ایک انگریزی پریس میں چھپ رہی تھی۔ ہمارا آدمی ایک بار پریس گیا تو اس کے غیر مسلم مشین مین نے پوچھا : یہ کیسی کتاب ہے۔ آدمی نے بتایا کہ یہ قرآنی تعلیمات کے بارہ میں ہے۔ مشین مین نے دوبارہ کہا : پھر تو یہ مار کاٹ سکھانے والی کتاب ہوگی۔ کیوں کہ تمہارے قرآن میں یہی سب چیزیں لکھی ہوئی ہیں۔ ایک مسلمان بزرگ نے اس واقعہ کو سنا تو فرمایا کہ یہ مس انڈر سٹینڈ نگ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ مس انڈر سٹینڈ نگ نہیں بلکہ پراپر انڈر سٹینڈ نگ ہے۔ قرآن بلاشبہ مار کاٹ کی کتاب نہیں مگر ہم نے اپنے قول و عمل سے دنیا کے سامنے جس اسلام کا تعارف کرایا ہے وہ یہی ہے۔ اگر ایک غیر مسلم اسلام کے بارہ میں کتاب لکھے اور اس کا نام خنجرِ اسلام ( ) رکھ دے تو مسلمان فوراً بگڑ جاتے ہیں۔ مگر خود ان کے مشہور ترین اسلامی مفکر کا حال یہ ہے کہ وہ فخر کے ساتھ کہتا ہے : تیغوں کے سایہ میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں خنجرِ ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا ایسی حالت میں دوسرے لوگ کیا کریں۔ کیا وہ آپ کے الفاظ کو بدل کر اس طرح لکھ لیں : پھولوں کے سایہ میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں پھولوں کا گلستاں ہے قومی نشاں ہمارا مسلمانوں میں جب بگاڑ آتا ہے تو ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ان کے اندر احساسِ فخر باقی رہتا ہے اور احساسِ ذمہ داری ان سے نکل جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ انھیں حق ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔ مگر دوسروں کو ان پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں۔ وہ ہر خوبی کا مستحق اپنے کو سمجھ لیتے ہیں اور خرابی کا مستحق دوسروں کو۔

موجودہ زمانہ میں ایران اور پاکستان اپنے کو اسلام کا سب سے بڑا علم بردار بتاتے ہیں۔ ہمارے قائدین میں ایسے لوگ موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ” پاکستان اسلام کا قلعہ ہے “ اور ” ایران کا انقلاب خالص اسلامی انقلاب ہے ؛ مگر ان ملکوں میں اسلام کا جو سب سے بڑا عملی نمونہ دکھایا گیا ہے وہ یہی ہے کہ لوگوں کو مارو، انھیں کوڑے لگاؤ، ان سے ان کی آزادیاں چھین لو، مفروضہ دشمنوں کے خلاف لامتناہی جنگ جاری رکھو۔ پھر دوسرے لوگوں سے آپ کیا امید رکھتے ہیں۔ کیا وہ ایسا کریں کہ اسلامی ملکوں سے آنے والی خبروں کو جب وہ پڑھیں تو اپنے ذہن میں اس کے معنی بدل لیا کریں۔ وہ گولی کو پھول کے معنی میں لے لیں اور کوڑے کو مصافحہ کرنے کے معنی میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page