Al-Risala · March 1984 · page 24

امتحان

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۲۴

نماز کی ادائیگی میں کوتاہ ہونا بے عملی ہے اور نماز کے حکم کو بدلنا سرکشی نماز کا اصل مقصد اللہ کی یاد ہے۔ مگر اس کا نظام اتنی حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ زندگی کے تمام تقاضے نہایت جامعیت کے ساتھ اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ نماز اتحاد اور اجتماعیت کا سبق ہے۔ وہ بندے کو اپنے رب سے جوڑتی ہے۔ وہ ہمارے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔ وہ ہمارے اوقات کو منظم کرتی ہے۔ وہ ہلکی جسمانی ورزش کا فائدہ دیتی ہے۔ وہ بار بار ہماری صفائی کرتی رہتی ہے، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز ہر قسم کی روحانی اور جسمانی برکتوں کا مجموعہ ہے۔ مسلمان اگر حقیقی شعور کے ساتھ نماز پر قائم ہو جائیں تو ان کی دنیا بدل جائے اور وہی ان کے تمام مسائل کے حل کے لئے کافی ہو جائے۔ فرض نمازوں کا پانچ ہونا روایات سے تواتر ثابت ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور دوسری کتب حدیث میں کثرت سے ایسی روایات ہیں جن میں الصلوات الخمس کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے صراحتہً یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرض نمازیں پانچ ہیں جو مخصوص اوقات میں مقرر کی گئی ہیں۔ تاہم قرآن میں نماز کی بے حد تاکید کے باوجود ”پانچ“ کا لفظ نہیں آیا ہے۔ اس سے کچھ لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ فرض نمازوں کی تعداد پانچ نہیں ہے بلکہ تین یا اس سے کم ہے۔ وہ اولاً حدیث کی حجیت کا انکار کر دیتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ قرآن کے مطابق پانچ وقت نماز ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مگر یہ محض دھوکا ہے۔ اگر کوئی شخص سنجیدہ ہو اور فی الواقع مسئلہ کو سمجھنا چاہتا ہو تو قرآن سے بھی بلا اشتباہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ فرض نمازیں پانچ ہیں اور مقررہ وقت پر ان کی ادائیگی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔

اس سلسلے میں قرآن کی حسب ذیل آیت پر غور کیجئے ۔

حافظوا على الصلوات والصلوة الوسطى (بقره ۲۳۸) پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی جملہ کی ترکیب بتا رہی ہے کہ اس آیت میں صلوٰۃ وسطی کا لفظ جس نماز کے لئے آیا ہے وہ صلوات سے علیحدہ نماز ہے۔ یعنی یہ کہا گیا ہے کہ ”نمازوں کی پابندی کرو اور اسی کے ساتھ اُس نماز کی جس کا وقت ”نمازوں“ کے بیچ میں آتا ہے۔ صلوات جمع کا لفظ ہے جو عربی قواعد کے مطابق کم از کم تین نمازوں کے لئے ہے۔ مگر استعمال بتاتا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page