مارکسی اشتراکیت
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۳۰
حصہ دوسرے کو دے کر اس سے وہ چیز حاصل کرے جس کو وہ خود نہیں بنا سکتا تھا۔ اس طرح سماج کے مختلف افراد میں باہمی لین دین وجود میں آتا ہے۔ اور اسی لین دین سے وہ اجتماعی زندگی پیدا ہوتی ہے جس کو سماج کہا جاتا ہے۔ مارکس کے نزدیک سماج اس کے سوا کسی چیز کا نام نہیں کہ وہ باہمی لین دین کی اجتماعی تشکیل ہے۔
مارکسی نقطہ نظر کے مطابق ، کسی سماج کے بارے میں یہ معلوم کرنے کے لئے کہ وہ ترقی کے کس مرتبہ پر ہے، یہ دیکھنا چاہئے کہ وہاں لین دین کس طرح ہوتا ہے۔ اس کے نزدیک اس لین دین کی تین صورتیں ہیں :
قدر تبادلہ (Exchange value)
قدر اصل (Intrinsic value)
قدر استعمال (Use value)
قدر تبادلہ کسی چیز کی وہ قیمت ہے جو سپلائی اور مانگ کے دوطرفہ تقاضوں سے متعین ہوتی ہے چونکہ مختلف اسباب سے کبھی بازار میں چیز زیادہ ہوتی ہے اور مانگ کم اور کبھی چیز کم ہوتی ہے اور مانگ زیادہ۔ اس بنا پر قدر تبادلہ ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔ ایک ہی چیز کبھی کم قیمت پر ملتی ہے اور کبھی زیادہ قیمت پر۔ جس سماج میں چیزوں کا لین دین قدر تبادلہ کے اعتبار سے ہو وہ مارکس کی نظر میں سرمایہ دارانہ سماج ہے۔
قدر اصل کسی چیز کی وہ واقعی قیمت ہے جو انسانی محنت کی بنا پر اس کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ مارکس کے تجزیہ کے مطابق چوں کہ کسی چیز کا خام مادہ ہمیشہ یکساں قیمت کا ہوتا ہے اور اسی طرح وہ انسانی محنت بھی یکساں ہوتی ہے جو خام مادہ کو بنی ہوئی چیز میں ڈھالنے کے لئے درکار ہوتی ہے۔ اس بنا پر ہر چیز اپنی قدر اصل کے اعتبار سے ایک ہی قیمت رکھتی ہے۔ باعتبار حقیقت ، اس میں نہ کمی کا امکان ہے نہ زیادتی کا۔ جس سماج کا نظام تبادلہ قدر اصل کی بنیاد پر قائم ہو اس کو مارکس سوشلسٹ سماج کہتا ہے۔ قدر استعمال کسی چیز کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ انسان کی ایک ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ مارکس کے نزدیک ارتقا یافتہ انسانی سماج ایسا ہی ہوگا۔ یہی وہ سماج ہے جس کو مارکس کمیونسٹ سماج کہتا ہے۔ اگر کسی سماج میں جنس کی صرف قدر استعمال دیکھی جانے لگے تو وہاں جنس کی قدر تبادلہ اور قدر اصل دونوں ختم ہو چکے ہوں گے۔ ایسے سماج میں افراد چیزوں کو اپنی استعمالی قیمت کے اعتبار سے دیکھیں گے نہ کہ ان کی اصلی قیمت یا تبادلی قیمت کے اعتبار سے۔ ایسے سماج میں انسان عین اس طرح چیزوں کا تبادلہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues