Al-Risala · March 1984 · page 29

مارکسی اشتراکیت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۲۹

تاہم جلد ہی مارکس کو یہ احساس ہوا کہ سوشلسٹوں کے پاس اخلاقی اپیل کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور محض اخلاقی اپیل کے ذریعہ بہتر سماج کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ اپنے بعد کے دور میں اس نے اس قسم کے سوشلزم کو خیالی سوشلزم (Utopian Socialism) کا نام دیا۔ اس کے بجائے وہ سائنٹفک سوشلزم کا حامی بن گیا جس کو اب عام طور پر کمیونزم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ خیالی سوشلزم کے علم برداروں کا کہنا تھا کہ بنیادی معاشی سرگرمیاں حکومت کے قبضہ یا کنٹرول میں رہنی چاہئیں تاکہ وہ دعویٰ انصاف کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی تنظیم کرے۔ مگر مارکس نے کہا کہ اصل مسئلہ حکومت کے کنٹرول یا نگرانی کا نہیں ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دوسرا سرمایہ دارانہ سماج ”میں تمام انسان اپنی غرض اور ذاتی مفاد کے تحت جیتے ہیں۔ جب تک لوگوں کے اندر ذاتی مفاد کا ذہن ختم نہ ہو، بہتر انسانی سماج کی تعمیر نہیں کی جاسکتی۔

مارکس نے اپنے طویل مطالعہ کے بعد یہ " دریافت " کیا کہ انسان کا مزاج اور اس کی عادتیں تقسیم اور تبادلہ کے اس نظام کے مطابق بنتی ہیں جو کسی سماج میں رائج ہو۔ مفاد پرستی کا موجودہ مزاج اس لئے ہے کہ سماج کے اندر تقسیم اور تبادلہ کا سرمایہ دارانہ نظام رائج ہے۔ اگر اس کو بدل کر سماج میں تقسیم اور تبادلہ کا اشتراکی نظام رائج کر دیا جائے تو انسانوں کا مزاج بھی بدل جائے گا۔ اس اعتبار سے مارکس نے انسانی سماج کے تین دور قرار دئے۔

مارکس کے نزدیک انسانی سماج ایک ترقی پذیر حقیقت ہے۔ وہ خود اپنے اندرونی قانون کے تحت ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف سفر کرتا ہے۔ اس سفر کے مطابق انسانی سماج کے تین درجے ہیں۔

سرمایہ دارانہ سماج (Capitalist society)

سوشلٹ سماج (Socialist society)

کمیونسٹ سماج (Communist society)

مارکس کے نزدیک یہ تینوں قسم کے سماج معاشی اسباب کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔ انسانی سماج کو قائم رکھنے کے لئے بہت سی مادی چیزوں کی ضرورت ہے۔ یہ چیزیں سماج کے تمام لوگ مل جل کر تیار کرتے ہیں۔ کوئی شخص ایک کام کرتا ہے اور کوئی دوسرا کام۔ مگر کسی آدمی کی ضرورت صرف وہی ایک چیز نہیں ہوتی جو اس نے خود بنائی ہے۔ وہ اپنی زندگی کے لئے اس کے سوا بہت سی دوسری چیزوں کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ہر آدمی اپنی پیداوار کا ایک

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page