مارکسی اشتراکیت
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۳۲
تعمیر پر اب جلد ہی ستر سال پورے ہو جائیں گے۔ کمیونسٹ پارٹی نے روس کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں ذاتی ملکیت کے تمام اداروں کو افراد کے ہاتھوں سے چھین لیا۔ اور وہ کوشش شروع کر دی جس کو اسٹالن نے سوویت انسان (Soviet Man) کی تعمیر کا نام دیا تھا۔ مگر ایک منظم اور ہمہ گیر ریاست کی طویل کوشش کے باوجود ابھی تک سوویت انسان وجود میں نہیں آیا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ روس کے کمیونسٹ لیڈروں کو روس میں آزادانہ انتخاب کرانے کی ہمت نہیں۔ کیوں کہ انھیں یقین ہے اگر انھوں نے آزادانہ انتخاب کرایا تو روسی عوام ۹۹ فی صد ووٹ ان کے خلاف دے کر ان کے اقتدار کا تختہ الٹ دیں گے۔
روس کے کمیونسٹ لیڈروں نے قدر تبادلہ (Exchange value) پر مبنی معاشی نظام کو بے رحمی کے ساتھ توڑ دیا اور طاقت کے زور پر یہ کوشش شروع کر دی کہ قدر اصل (Intrinsic value) کی بنیاد پر سماج کی تشکیل ہو سکے۔ اور اس کے بعد قدر استعمال (Use value) کی بنیاد پر تشکیل پانے والے سماج کی طرف سفر شروع ہو۔ مگر ناقابل بیان مظالم کے باوجود پہلا مرحلہ بھی حاصل نہیں ہوا۔ اور دوسرے مرحلہ کے سماج کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔
جن چیزوں کو مارکس نے سرمایہ دارانہ سماج کا نتیجہ قرار دیا تھا وہ سب آج اشتراکی روس کے اندر موجود ہیں۔ روسی حکومت مسلسل ایسے شہریوں کا اعلان کرتی رہتی ہے جو کام چوری، غبن، جاسوسی، غداری اور رجعت پسندی جیسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگر اشتراکی سماج میں مارکس کے مزعومہ نتائج نکلتے ہوں تو اشتراکی سماج میں ستر سال بعد بھی لوگوں کا یہ حال کیوں ہے۔ ایک کتاب میں راقم الحروف نے ایک قصہ پڑھا جو مندرجہ ذیل الفاظ میں درج تھا۔ A communist deputy approached a conservative member of the French Senate and showed to him a special edition of the works of Karl Marx, printed in Braille. "These are for the blind," He explained. "Monsieur," replied the Senator, "All the works of Marx are for the blind." ایک اشتراکی ڈپٹی فرانس کی پارلیمنٹ کے ایک قدامت پسند ممبر سے ملا اور اس کو کارل مارکس کی تحریروں کا ایک خصوصی ایڈیشن دکھایا جو بریل طریقہ پر چھپا ہوا تھا۔ اشتراکی نے کہا کہ یہ ایڈیشن اندھوں کے لئے لہے ہے۔ فرانسیسی نے جواب دیا۔ جناب، مارکس کی تمام تحریریں اندھوں ہی کے لئے ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ مارکس کے نظریہ پر وہی ایمان لا سکتا ہے جو اندھے پن کی وجہ سے حق اور ناحق کو نہ جانے۔ آنکھ والا آدمی تو اس کی لغویت کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues