Al-Risala · March 1984 · page 40

دشمن سے بھی نفرت نہ کیجئے

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۴۰

ایک سفر

۸ ستمبر ۱۹۸۳ کو جب انڈین ایئرلائنس کی فلائٹ نمبر ۳۰۴ ہم مجھ کو لئے ہوئے تقریباً نو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دہلی سے بنگلور جارہی تھی تو اچانک مجھ کو خیال آیا کہ خدا انسانی سفر کو تیز رفتار بنا کر خاموش زبان میں یہ کہہ رہا ہے کہ میرا پیغام لے کر دوڑو اور اس کو تمام لوگوں تک پہنچادو، قبل اس کے کہ میرے کسی بندے پر موت آئے اور وہ بے خبری کی حالت میں اپنے انجام کو پہنچ جائے———— آدمی موت سے کتنا قریب ہے، مگر وہ اس واقفیت سے کتنا دور ہے جس کے بغیر کامیابی کے ساتھ موت کا استقبال نہیں کیا جاسکتا۔

ہمارا جہاز جب ہوائی اڈہ کی سڑک (رن وے) پر دوڑ رہا تھا تو میں نے سوچا کہ یہ جہاز اگر اسی طرح اپنا پر پھیلائے ہوئے زمین پر دوڑتا رہے اور رن وے سے اوپر اٹھ کر پرواز نہ کرے تو کل کے اخبار کے لئے صفحہ اول کی ایک خبر بن جائے گی، جہاز اور اس کے مسافروں کی ہلاکت کی خبر۔ مگر جہاز نے جب ایسا کیا کہ وہ رن وے کی حد آنے سے پہلے فضا میں اڑ گیا اور تمام مسافروں کو لئے ہوئے خیریت کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچ گیا تو اس کی کوئی خبر اخبار میں نہیں چھپی۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اخبار والوں کو جہاز کی بربادی سے اتنی زیادہ دل چسپی ہے۔ مگر جہاز کی آبادی اور کامیابی سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں۔ اس سوال کا جواب میری سمجھ میں اس وقت آیا جب کہ میں نے اس کی برعکس صورت پر غور کیا۔

میں نے اپنے جی میں کہا کہ فرض کرو کہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہو۔ یعنی ہر جہاز جو ہوائی اڈہ سے روانہ ہو وہ فضا میں اڑنے سے پہلے برباد ہو جایا کرے۔ اس کے بعد استثنائی طور پر یہ واقعہ ہو کہ ایک جہاز اپنے مقام سے اڑے اور کامیابی کے ساتھ اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے تو اس کی خبر تمام اخبارات میں خصوصی اہتمام کے ساتھ چھاپی جائے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ نہ جہاز کی بربادی کا ہے اور نہ اس کی آبادی کا۔ اصل مسئلہ نئے پن کا ہے۔ لوگ ہمیشہ کوئی نئی چیز چاہتے ہیں۔ یہی نئی چیز چاہنے کا جذبہ ہے جس کی بنا پر آج اخبار والے تباہ شدہ جہاز کی خبر فوراً چھاپتے ہیں جو کبھی کبھی ہوتا ہے۔ اور منزل پر پہنچنے کی خبر نہیں چھاپتے کیوں کہ وہ روزانہ برابر ہورہا ہے۔ اور اب اس میں کوئی نیاپن نہیں۔ اکثر سوالات کا جواب اس وقت سمجھ میں آجاتا ہے جب کہ اس کی برعکس صورت پر غور کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page