Al-Risala · March 1984 · page 42

دشمن سے بھی نفرت نہ کیجئے

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۴۲

شام کو مغرب اور عشاء کے درمیان گلستان ہال میں خطاب ہوا۔ ہال پورا بھرا ہوا تھا میں نے ایک گھنٹہ کی تقریر میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ اللہ کا ڈر دلوں میں آجانا ، یہی ہمارے تمام مسائل کا حل ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں ہے انتم الاعلون ان کنتم مومنین (تم ہی غالب ہوگے اگر تم مومن ہو) اس آیت میں مومن سے مراد اگر " کلمہ گو" ہو تو آج کلمہ گو مسلمانوں کی تعداد ساری دنیا میں تقریباً ایک ارب ہے۔ مگر مسلمان آج سب سے زیادہ مغلوب حالت میں ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مومن سے مراد کلمہ گو نہیں۔ مومن سے مراد وہ انسان ہے جس کو خدا کی یافت ہو جائے اور خدا جیسی عظیم ہستی کی یافت آدمی کے اندر جو کیفیت پیدا کرتی ہے اسی کا نام تقویٰ اور خوف ہے۔ مسلمانوں کے اندر سے خوف خدا رخصت ہو گیا ہے۔ یہی ان کے تمام مسائل کا اصل سبب ہے۔ مختلف تاریخی مثالوں کے ذریعہ میں نے اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔

۱۰ دسمبر کو ۱۱ بجے ڈاکٹر حیات اسماعیل صاحب کے مکان (بنسن روڈ) پر ایک نشست ہوئی جس میں مردوں کے علاوہ عورتیں بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر میں نے "ایمان بالغیب" کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ ایمان بالغیب کا لفظ کثرت استعمال سے ہمارے لئے کچھ رسمی سا ہو گیا ہے۔ اس لئے ہم اس کی پوری معنویت کو سمجھ نہیں پاتے۔ ایسی حالت میں اگر لفظ کو بدل دیا جائے تو بات پوری طرح سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ایمان بالغیب کا مطلب وہی ہے جس کو آجکل کی زبان میں ڈسکوری (دریافت) کہا جاتا ہے۔ میں نے تاریخ کی مثالوں سے بتایا کہ ڈسکوری کس طرح آدمی کے اندر انقلاب پیدا کر دیتی ہے۔ اگر ہم ایمان کو لوگوں کے لئے ڈسکوری بنا دیں تو اچانک ہم دیکھیں گے کہ نئی شخصیت والے انسان پیدا ہو گئے ہیں۔ تقریر تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی۔ رات کو ۹ بجے بنگلور سٹی کی جامع مسجد میں خطاب ہوا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر ہوئی میں نے صحابہ کرام اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تقابلی مثالوں سے یہ دکھا یا کہ صحابہ نے ایک بڑی چیز پائی تھی اور ہم اس بڑی چیز کو نہ پاسکے۔ وہ خدا کو پائے ہوئے تھے اس لئے ہر دوسری چیز ان کی نظر میں چھوٹی ہو گئی تھی ۔ ہم نے خدا کو نہیں پایا ہے اس لئے چھوٹی چیز بھی ہم کو بڑی چیز معلوم ہوتی ہے۔ کسی نقصان کو ہم برداشت نہیں کر پاتے۔ حالانکہ زندگی کا راز یہ ہے کہ جو آدمی نقصان کو برداشت کرے وہی نفع کا مالک بنتا ہے۔

۱۱ ستمبر کو صبح ۱۰ بجے ہرشا ہوٹل کے ہال میں تقریر ہوئی۔ اس میں میں نے دکھایا کہ قرآن ہی اس آسمان کے نیچے خدا کی واحد محفوظ اور مستند کتاب ہے اور وہی تمام انسانوں کی نجات کا ذریعہ ہے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues

Printed page