Kingdom of Satya Sai Baba
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۴۵
میں نے کہا جب کہ انسانی سماج کا انجینئر خود اصلاح کے لئے زمین پر آگیا ہے تو انسانی سماج کی خرابیوں کی اصلاح کیوں نہیں ہوتی۔ انھوں نے اب ایک اور مثال دی۔ انھوں نے کہا کہ ایک شخص بھگوان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ بارش کی وجہ سے میرا گھر گر رہا ہے، بارش کو بند کیجیے۔ اب اگر بھگوان بارش کو بند کر دیں تو کسان آ کر فریاد کریں گے کہ ہماری فصل سوکھنے کی وجہ سے برباد ہوگئی۔ میں نے کہا کہ آپ کے اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ پل کے ٹوٹنے میں بھی کوئی مصلحت تھی، اس لئے بھگوان اس کو باقی رکھے ہوئے ہیں۔ جب ایسا ہے تو پھر بھگوان کو زمین پر آنے کی حاجت ہی نہیں تھی۔ کیوں کہ آپ کے کہنے کے مطابق وہ اس وقت زمین پر آتے ہیں جب کہ ٹوٹے ہوئے پل کو درست کرنے کی ضرورت ہو۔ ۴ فروری ۱۹۸۴ کو دہلی میں ایک کشمیری نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ماہنامہ الرسالہ شروع سے خریدتے ہیں۔ اور مکتبہ الرسالہ کی مطبوعات بھی پڑھ چکے ہیں۔ وہ جہاں کہیں بھی جاتے ہیں الرسالہ کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں۔
حال میں ایک سفر کے دوران وہ ایک دن کے لئے بنگلور میں ٹھہرے تھے۔ بنگلور میں انھوں نے ایک دکاندار سے الرسالہ کا تذکرہ کیا۔ دکاندار نے جواب دیا کہ ہم اس نام کے کسی رسالہ سے واقف نہیں اور ہم رسالے وغیرہ پڑھتے بھی نہیں۔ یہ سب مولویوں کے جھگڑے ہیں اور مولوی ہم کو بہت برباد کر چکے ہیں۔
مذکورہ کشمیری نوجوان بنگلور سے یہ تاثر لے کر لوٹے کہ بنگلور میں ابھی الرسالہ کی آواز نہیں پہنچی ہے۔ حالاں کہ ان کی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے بنگلور کے ایک دکاندار کو بنگلور سمجھ لیا۔ اگر وہ بنگلور کے سفر میں ہمارے ساتھ ہوتے تو ان کا تاثر دوسرا ہوتا۔ کیوں کہ بنگلور میں خدا کے فضل سے الرسالہ کی کئی ایجنسیاں کامیابی سے چل رہی ہیں۔ اور وہاں راقم الحروف کی تقریروں میں بھی کثرت سے تعلیم یافتہ طبقہ شریک ہوا۔
میں نے مذکورہ کشمیری نوجوان سے کہا کہ بنگلور ایک بہت بڑا شہر ہے۔ وہاں بہت سے لوگ الرسالہ کو برابر پڑھ رہے ہیں۔ مگر کسی شہر میں الرسالہ کے قارئین کا ہونا اور چیز ہے اور شہر کے ہر فرد تک الرسالہ کا پہنچنا دوسری چیز۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی کے خلاف یا موافق ایک رائے قائم کر لیتا ہے۔ حالاں کہ اس کی رائے اس کے محدود مشاہدہ کی نسبت سے ہوتی ہے نہ کہ وسیع تر معنوں میں پوری صورت واقعہ کی نسبت سے۔ اکثر یقین صرف اس بات کا نتیجہ ہوتا ہے کہ آدمی کو پوری بات کا علم ہی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues