Kingdom of Satya Sai Baba
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۴۴
میری ہر تقریر کے ساتھ اجتماع گاہ میں کتابوں کا اسٹال رکھا گیا ۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں کتابیں خریدیں ۔ اور مطالعہ کے لئے لے گئے ۔
بنگلور سے ۲۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر وائٹ فیلڈ میں ستیہ سائی بابا کا مرکز ہے۔ ستمبر کی سہ پہر کو ہم اسے دیکھنے کے لئے گئے ۔ ’’سائی بابا کا کٹ گڈم یہاں سے ایک کلومیٹر کے بعد شروع ہو جائے گا ‘‘ ڈاکٹر اسماعیل صاحب نے کہا جو گاڑی میں میری بغل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد سڑک کے کنارے ایک بورڈ دکھائی دیا جس پر لکھا ہوا تھا:
Kingdom of Satya Sai Baba
بورڈ دیکھنے سے پہلے میں نے سمجھا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے کٹ گڈم (سلطنت) کا لفظ تفریح کے طور پر کہا ہے۔ مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ واقعۃ اس کا نام یہی ہے۔ سائی بابا کا یہ مرکز سڑک کے کنارے تقریباً تین کلومیٹر لمبے اور دو کلومیٹر چوڑے علاقہ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس میں ہر قسم کے فارم، اسکول، کالج، اسپتال، لائبریری، پریس، وغیرہ وغیرہ چیزیں موجود ہیں۔ یہ پوری طرح ایک خود کفیل دنیا ہے جو اپنی ضرورت کی تمام چیزیں (غلے سے لے کر کتاب تک) خود تیار کرتی ہے۔
اس وقت سائی بابا اپنے مرکز میں موجود نہ تھے، کہیں باہر گئے ہوئے تھے، اس لئے ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔ البتہ ان کے کچھ معتقدین سے ملاقاتیں ہوئیں۔ مسٹر وی کے (زمین رسالو ایڈیٹر انڈین ایکسپریس) سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان کے ہاتھ میں ایک الیکٹرانک گھڑی تھی جس کے متعلق انھوں نے کہا کہ سائی بابا نے اس کو مجھے جنگل کے درمیان دیا تھا:
It was given to me by Swami in the middle of the forest. میں نے قریب سے دیکھا تو یہ گھڑی ٹھیک ویسی ہی تھی جیسی عام گھڑی ہوتی ہے۔ میں حیران ہوا کہ لوگ کتنے سادہ ہیں کہ یہ یقین کر لیتے ہیں کہ سائی بابا نے یہ گھڑی کسی آسمانی فیکٹری سے پر اسرار طور پر حاصل کرکے انھیں دی ہے۔ اگر واقعی یہ گھڑیاں’’ آسمان سے آتی ہیں تو ان کا ڈیزائن عام زمینی گھڑیوں سے مختلف کیوں نہیں۔
مسڑ زمین نے کہا کہ سائی بابا خدا کے اوتار ہیں۔ اوتار کی تشریح انھوں نے اس طرح کی کہ لکڑی کا چھوٹا پل ٹوٹ جائے تو گاؤں والے خود ہی اس کی مرمت کر لیتے ہیں۔ مگر جب لوہے کا بڑا پل ٹوٹتا ہے تو انجینئر کو خود اس کو درست کرنے کے لئے آنا پڑتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1984 All issues