ناقص تجزیہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۱۵
کر دیا تھا۔ اتاترک نے صرف ایک ہونے والے واقعہ کا اعلان کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۲۴ء تک عثمانی خلافت کے ماتحت مسلم ممالک میں قومی تحریکیں زبردست قوت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ یہ تحریکیں شدت کے اس درجہ تک پہنچ چکی تھیں کہ ترکی میں بیٹھ کر ان ممالک پر حکومت کرنا نا ممکن ہو گیا تھا۔ گویا تقریبا وہی صورت حال تھی جو موجودہ صدی کے وسط میں برطانیہ کے لئے ہندوستان میں پیدا ہو چکی تھی۔ برطانی وزیر اعظم لارڈ ایٹلی نے ہندوستان کو برطانی غلامی سے آزاد نہیں کیا بلکہ ایک ہونے والے واقعہ کا سیاسی اعتراف کر لیا۔ اسی طرح کمال اتاترک نے حقیقتاً خلافت کو ختم نہیں کیا بلکہ وہ خلافت جس کو اس کے ماتحت مسلم ممالک اپنے قومی جوش کے تحت قبول کرنے سے انکار کر چکے تھے اس کو مان لیا اور ان ملکوں کی خواہش کے مطابق انھیں قومی آزادی دے دی۔ اس زمانہ میں عرب ممالک قومی جذبات سے اس قدر سرشار تھے کہ ان کے درمیان اگر کوئی سمجھ دار آدمی خلافت کو باقی رکھنے کی بات کرتا تو وہ اس کو قومی غدار سمجھ لیتے ۔ ایک بڑے عرب عالم جو خلافت کی مانتی کو باقی رکھنا چاہتے تھے جب ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا پڑا تو انھوں نے کہا : سیعلم قومی ما نحن لا اغنھم ومھما استطال اللیل فالصبح واصل جلد ہی میری قوم جان لے گی کہ میں نے اس کو دھوکا نہیں دیا ہے اور رات کتنی ہی لمبی ہو بہر حال اس کے بعد صبح آتی ہے۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے جولیڈر اٹھے انھوں نے حالات کا تجزیہ کرنے میں کتنی زبردست غلطیاں کیں۔ اور جب تجزیہ غلط ہو تو لازمی طور پر عملی پروگرام بھی غلط اور بے نتیجہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اکثر مسلم لیڈر کسی نہ کسی فرد کو مسلم مصائب کا ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف طوفان مچاتے رہتے ہیں۔ مگر جب وہ اس فرد کو ختم کر لیتے ہیں یا اس کو سولی پر چڑھا دیتے ہیں تو اس کے بعد بھی مسائل بدستور باقی رہتے ہیں۔ جن لوگوں کے بس میں قتل کرنا ہے وہ قتل کر رہے ہیں۔ جن کے پاس قتل کرنے کی طاقت نہیں وہ مفروضہ ذمہ دار شخص کے خلاف الفاظ کا طوفان مچائے ہوئے ہیں۔
ہمارے مسائل کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہیں۔ وہ وسیع تر تاریخی اسباب کے پیدا کردہ ہیں ۔ اور جب تک ان تاریخی اسباب کو دور نہ کیا جائے ہمارے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues