حق کی پہچان
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۱۶
حق کی پہچان
شری رام رتن کپلاااا دہلی میں ریفر یجریٹر کے تاجر ہیں اور شری موتی رام صراف دہلی میں سونے چاندی کا کاروبار کرتے ہیں۔ دونوں میں بہت دوستی ہے۔ اکثر صبح کو دونوں ایک ساتھ ٹہلنے کے لئے نکلتے ہیں اور ایک ساتھ واپس آتے ہیں۔
ایک روز دونوں ایک مقام پر ٹہل رہے تھے۔ شری رام رتن کپل کو ایک جگہ راستے کے کنارے ایک چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی۔ انھوں نے اس کو شیشہ کا ٹکڑا سمجھا اور تفریح کے طور پر ہاتھ میں اٹھالیا۔
ٹہلنے کے بعد دونوں گھر واپس آئے۔ شری رام رتن کپلانے واشن بین پر ہاتھ دھویا اور مذکورہ ٹکڑے کوبے خیالی کے ساتھ ایک کنارے ڈال دیا۔
اس کے بعد شری موتی رام صراف اپنا ہاتھ دھونے کے لئے واشن بین پر آئے۔ ان کی نگاہ مذکورہ ٹکڑے پر پڑی۔ اس کی چمک دیکھتے ہی فوراً انھوں نے پہچان لیا کہ یہ ہیرا ہے۔ انھوں نے اس کو اٹھالیا اور اس کو دھو کر شری رام رتن کپل کے پاس لے گئے جب انھوں نے بتایا کہ یہ ہیرا ہے تو شری رام رتن کپل کو بہت تعجب ہوا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے تو اسے معمولی شیشہ کا ٹکڑا سمجھا تھا۔ خیریت ہوئی کہ میں نے اسے پھینک نہیں دیا۔
شری رام رتن کپل ہیرے سے بے خبرنہ تھے۔ ان کے گھر میں ہیرے کا نیکلس موجود تھا جس کو وہ نہایت احتیاط کے ساتھ اپنی مخصوص الماری میں رکھے ہوئے تھے۔ مگر راستہ میں پڑے ہوئے ہیرے کو وہ پہچان نہ سکے۔ شری موتی رام صراف بھی ہیرے سے واقف تھے اور شری رام رتن کپلابھی۔ فرق یہ ہے کہ شری موتی رام جو ہری تھے۔ وہ ہیرے کو اس کے جوہر کی بنیاد پر پہچان سکتے تھے خواہ وہ کہیں بھی ہو۔ مگر شری رام رتن کپلاصرف اس ہیرے سے واقف تھے جو ان کے معلوم نیکلس میں لگا ہوا ہو۔ معلوم نیکلس کے باہر کسی ہیرے کے ٹکڑے کو پہچاننا انھیں نہیں آتا تھا۔
وہ شخص جو ہری نہیں جو ہیرے کو صرف اس وقت پہچانے جب کہ وہ اس کے اپنے ہار میں لگا ہوا ہو۔ جو ہری وہ ہے جو ہیرے کو اپنے ہار میں بھی پہچانے اور دوسرے کے ہار میں بھی۔ اسی طرح حق شناس وہ ہے جو حق کو ہر حال میں پہچان لے، خواہ وہ اس کے اپنے حلقہ کے اندر ہو یا اس کے اپنے حلقہ کے باہر۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues