جب سفر ختم ہوگا
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۱۲
جب سفر ختم ہوگا
ایکسپریس ٹرین لمبا سفر طے کرنے کے بعد منزل پر پہنچ رہی تھی۔ سٹرک کے دونوں طرف ظاہر ہونے والے آثار بتا رہے تھے کہ آخری اسٹیشن قریب آگیا ہے۔ ٹرین کے سیکڑوں مسافروں میں نئی زندگی پیدا ہو گئی تھی۔ کوئی بستر باندھ رہا تھا۔ کوئی کپڑے بدل رہا تھا۔ کوئی اشتیاق بھری نظروں سے کھڑکی کے باہر دیکھ رہا تھا۔ ہر ایک کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی، ہر ایک آنے والے پر مسرت لمحہ کا منتظر تھا جبکہ وہ ٹرین سے اتر کر اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے۔
اچانک زور کا دھماکا ہوا۔ ایکسپریس ٹرین یارڈ میں کھڑی ہوئی دوسری ٹرین سے ٹکرا گئی ۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ______ خوشیاں اچانک غم میں تبدیل ہو گئیں۔ زندگیاں موت کی آغوش میں سو گئیں، امیدوں کے محل کی ایک ایک اینٹ بکھر گئی۔ ایک کہانی جس کا اختتام بظاہر طربیہ (Comedy) پر ہو رہا تھا، اپنے آخری نقطہ پر پہنچ کر اچانک المیہ (Tragedy) میں تبدیل ہو گیا۔
ایسا ہی کچھ معاملہ زندگی کا ہے۔ آدمی بے شمار کوششوں کے بعد پر اعتماد معاشی زندگی بناتا ہے۔ وہ اپنے حوصلوں کو ایک بنے ہوئے گھر کی صورت میں تعمیر کرتا ہے۔ وہ اپنے لئے ایک کامیاب زندگی کا مینار کھڑا کرتا ہے۔ مگر عین اس وقت اس کی موت آجاتی ہے۔ اپنے گھر کو سونا چھوڑ کر وہ قبر میں لیٹ جاتا ہے۔ اس کا چکنا جسم مٹی اور کیڑے کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس کی کوششوں کا حاصل اس سے اس طرح جدا ہو جاتا ہے جیسے آدمی اور اس کے درمیان کبھی کوئی تعلق ہی نہ تھا۔
„کوٹھی“ کا خواب دیکھنے والا مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ ”قبر“ میں داخل ہو، وہ قبر کے راستہ سے گزر کر حشر کے میدان میں پہنچ جائے۔ یہ دوسری دنیا اس کی آرزوؤں کی دنیا سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ یہاں وہ اتنا مفلس ہوتا ہے کہ اس کے جسم پر کپڑا بھی نہیں ہوتا۔ اس کی ساری کمائی اس سے جدا ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھی اس سے بچھڑ جاتے ہیں ۔ اس کا زور اس سے رخصت ہو جاتا ہے۔ ان چیزوں میں سے کوئی چیز وہاں اس کا ساتھ دینے کے لئے موجود نہیں ہوتی جن کے بل پر وہ دنیا میں گھمنڈ کر رہا تھا۔
آہ وہ سفر بھی کیسا عجیب ہے جو عین اختتام پر پہنچ کر حادثہ کا شکار ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues