Al-Risala · April 1984 · page 13

قبر نہیں دروازہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۱۳

قبر نہیں دروازہ

"حافظ جی کے لڑکے کا انتقال ہوگیا ہے۔ جنازہ کی نماز تیار ہے۔ میں آپ کو بلانے کے لئے آیا ہوں" یہ سنتے ہی میں نے کتاب بند کی اور وضو کر کے ان کے ساتھ روانہ ہوگیا۔

قبرستان پہنچا تو وہاں میرے سوا تھوڑے سے آدمی اور کھڑے تھے۔ گنا تو چھوٹے بڑے سترہ آدمی تھے جن میں میت کے گھر کے افراد بھی شامل تھے۔ مجھے ایک مہینہ پہلے کی بات یاد آئی جب کہ سیٹھ فضل علی کے ایک رشتہ دار کا جنازہ اسی قبرستان میں آیا تھا اور قبرستان کے خصوصی حصہ میں دفن ہوا تھا۔ اس دن آدمیوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ شمار کرنا مشکل تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا بستی کی تمام مسلم آبادی نکل آئی ہے۔

میرے پہنچنے کے چند منٹ بعد محلہ کے امام صاحب نماز جنازہ کے لئے کھڑے ہوگئے۔ میں نے بھی صف میں شامل ہو کر نیت باندھ لی مگر امام صاحب نے اتنی تیزی سے نماز پڑھائی کہ میں کوئی دعا بھی پوری نہ پڑھ سکا۔ بس جلدی جلدی چار بار اللہ اکبر کی آواز آئی اور تھوڑی دیر بعد انھوں نے سلام پھیر دیا۔ لوگ اپنے جوتے پہن کر اطمینان کے ساتھ اس طرح کھڑے ہو گئے گویا "نماز جنازہ" کے نام سے جو کام انھیں کرنا تھا اس کو انھوں نے پوری طرح انجام دے دیا ہے۔ قبر قریب ہی تھی۔ وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ابھی کھودی جارہی ہے۔ لوگ دو دو چار چار کر کے ادھر ادھر کھڑے ہوگئے ۔ کوئی فرقہ وارانہ مظالم کی داستان سنانے لگا۔ کسی نے موسم کی سختی کا ذکر چھڑ دیا۔ کوئی بازار بھاؤ کے متعلق اپنی معلومات پیش کرنے لگا۔ غرض ادھر ادھر کی باتیں شروع ہوگئیں۔

میں قبر کے سامنے خاموش کھڑا تھا۔ میرے ذہن میں وہ آیتیں اور حدیثیں گھوم رہی تھیں جن میں قیامت، حشر، جنت، دوزخ وغیرہ کے حالات بتائے گئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا یا قبر ایک کھلا ہوا دروازہ ہے جس کے سامنے کھڑے ہو کر میں دوسری دنیا کے مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ۔ میرا دل بے قرار ہوگیا۔ میری زبان سے نکلا "زندگی کا اصل مسئلہ وہ نہیں ہے جس میں لوگ الجھے ہوئے ہیں۔ بلکہ اصل مسئلہ وہ ہے جو موت کے بعد سامنے آنے والا ہے۔ کاش لوگوں کو معلوم ہوتا کہ وہ اس وقت کس واقعہ کے درمیان کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ ایک شخص کی عارضی دنیا سے حقیقی دنیا کی طرف روانگی کی تقریب ہے۔ یہ قبر جو ہمارے سامنے کھودی جارہی ہے، یہ قبر نہیں ہے بلکہ یہ ایک دروازہ ہے جو ایک شخص کو دوسری دنیا میں داخل کرنے کے لئے کھولا گیا ہے۔ جانے والا ابھی اس دروازہ میں داخل ہو کر اُس پار چلا جائے گا۔ جب بھی کوئی شخص مرتا ہے تو یہ ایک خاص وقت ہوتا ہے۔ اس وقت گویا تھوڑی دیر کے لئے اس دنیا کا دروازہ کھولا جاتا ہے جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے۔ اگر دیکھنے والی آنکھ ہو تو اس کھلے ہوئے دروازہ سے دوسری دنیا کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی ہے جہاں ہم میں سے ہر شخص کو ایک روز جانا ہے۔ مگر آج کی دنیا کے مناظر نے لوگوں کی نگاہوں کو اس قدر الجھار رکھا ہے کہ عین دروازہ پر کھڑے ہو کر بھی انھیں اس پار کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ وہ حقیقت کے انتہائی قریب پہنچ کر بھی حقیقت سے بے خبر رہ جاتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues

Printed page