Al-Risala · April 1984 · page 18

موت کا حملہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۱۸

موت کا حملہ

سکندر اعظم ( ۳۲۳ - ۳۵۶ ق م) یونانی بادشاہ فلپ کا لڑکا تھا۔ اس نے تخت ملنے کے بعد دس سال کی مدت میں اس زمانہ کی معلوم دنیا کا بیشتر حصہ فتح کر ڈالا۔ مصر کا شہر اسکندریہ اس کے فتح مصر کی یادگار کے طور پر اب بھی موجود ہے۔ مگر بالآخر اس کا انجام کیا ہوا۔ وہ عراق کے قدیم شہر بابل کے ایک محل میں اسی طرح بے بسی کے ساتھ مر گیا جس طرح ایک غریب اور کمزور آدمی اپنی جھونپڑی میں مرتا ہے۔ اس نے اپنی زندگی میں جو چاہا وہ پایا اور پھر سب کچھ پاکر خالی ہاتھ اس دنیا سے چلا گیا۔ اس کی وسیع سلطنت اس کے مرنے کے بعد اس کے تین فوجی سرداروں میں تقسیم ہوگئی، کیونکہ اس کا واحد بیٹا اس کی زندگی ہی میں قتل کیا جا چکا تھا۔ سکندر کی عظمت کا یہ حال تھا کہ جولیٹس سینزر ایک بار اسپین میں سکندر کے مجسمہ کے سامنے سے گزرا تو اس کو دیکھ کر وہ بے اختیار رونے لگا۔ اس نے کہا کہ سکندر نے جو فاتحانہ کارنامے دس برس کی مدت میں انجام دئے اس کا دسواں حصہ بھی میں اب تک انجام نہ دے سکا۔ سکندر مخالفت کو بالکل برداشت نہیں کرتا تھا۔ اس کا نظریہ تھا کہ مخالفت شروع ہوتے ہی اس کو فوراً کچل دینا چاہئے۔ کہا جاتا ہے کہ سکندر کی غیر معمولی فتوحات کا باعث اس کی برق رفتاری تھی۔ اچانک پہنچ کر دشمن کو دبوچ لینے کی صلاحیت اس کے اندر دنیا کے تمام جنزلوں سے زیادہ تھی، مگر موت اس سے بھی زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئی ۔ ۱۳ جون ۳۲۳ ق م کو جب موت اس کے اوپر حملہ . آور ہوئی تو اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو بالکل بے بسی کے ساتھ موت کے حوالے کر دے ۔

موت اس لئے آتی ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ وہ خدا کے آگے کس قدر بے بس ہے ۔ آدمی ہر روز اپنے چاروں طرف موت کے واقعات کو دیکھتا ہے مگر وہ اس سے کوئی سبق نہیں لیتا۔ وہ زندگی کی اس سب سے بڑی حقیقت کو بھولا رہتا ہے، یہاں تک کہ موت آکر اس سے خود اس مہلت کو چھین لیتی ہے کہ وہ سوچے اور اس سے سبق لے۔ موت آدمی کے لئے سب سے بڑا سبق ہے، مگر موت سے آدمی سب سے کم جو چیز لے رہا ہے وہ یہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues

Printed page