Al-Risala · April 1984 · page 16

آنے والا طوفان

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۱۶

آنے والا طوفان

11 اگست 1979ء کو موردی (گجرات) میں اچانک ایک سیلاب آیا جس نے پوری بستی کو تہس نہس کر دیا۔ بستی کے کنارے ایک بڑا بند تھا۔ غیر معمولی بارش سے اس کا پانی بہت اونچا ہو گیا۔ یہاں تک کہ اس نے بند کو توڑ ڈالا۔ ایک مشاہد کے الفاظ میں "تقریباً 20 فٹ اونچی پانی کی دیوار"، اتنی تیزی کے ساتھ بستی کے اندر داخل ہوئی کہ کوئی اس سے بچ نہ سکتا تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر پانی کا یہ طوفان بستی کی تمام چیزوں کو برباد کر کے نکل گیا۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 25 ہزار آدمی اس اچانک سیلاب میں مرگئے ۔ جب کہ بستی کی کل آبادی تقریباً 40 ہزار تھی۔ بربادی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ دیگر چندوں کے علاوہ صرف مرکزی حکومت نے فوری امداد کے طور پر پانچ کروڑ روپے حکومت گجرات کو دئے ہیں۔

ایک انگریزی اخبار کے نامہ نگار ارن کمار نے جو چشم دید رپورٹ (ہندوستان ٹائمز 19 اگست 1979ء) شائع کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ بچے ہیں ان میں سے ہر شخص کے پاس بتانے کے لئے ایک پر درد کہانی ہے۔ ان کو جو صدمہ اور تکلیف پہنچی ہے اس کے احساس سے وہ ابھی تک نکل نہیں سکے ہیں، کچھ کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی گویائی کھودی ہے۔ وہ بالکل سراسیمہ اور ہکا بکا دکھائی دیتے ہیں: Some have lost their speech and look absolutely dazed and blank. ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ ایک تباہ حال زمیں دار کو اس وقت حیرت ناک خوشی ہوئی جب سرکاری ذمے داروں نے اس کو 10 ہزار روپے نقدا اور 225 گرام سونے کے زیورات یہ کہہ کر دئے کہ یہ تمھارے گھر کے اندر سے دستیاب ہوئے ہیں (ہندوستان ٹائمز 30 اگست 1979ء)

اس طرح کے واقعات جو زمین پر روزانہ ہوتے رہتے ہیں، وہ اس لئے ہوتے ہیں تاکہ آدمی آخرت کے دن کو یاد کرے ۔ آخرت کا عظیم تر سیلاب بھی بالکل اچانک آئے گا۔ بہت سے لوگ اس دن اس طرح برباد ہوں گے۔ کہ ان کے الفاظ کے ذخیرے تک ختم ہو جائیں گے جو دنیا میں ہر آدمی کو نہایت وافر مقدار میں حاصل ہیں۔ ان کی چلتی ہوئی زبانیں بند ہو جائیں گی۔ وہ سراسیمہ نظروں سے اپنی ہولناک بربادی کو دیکھیں گے اور کچھ بول نہ سکیں گے۔ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کو یہ خوش خبری دی جائے گی کہ ہلاکت اور بربادی کے عمومی طوفان نے تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا۔ تمھارا بہترین اثاثہ اللہ کے مزید انعام کے ساتھ آج تمھارے حوالے کیا جائے گا۔ ایک ہی سیلاب کچھ لوگوں کو جہنّم میں دھکیل دے گا اور کچھ لوگوں کے لئے وہ جنت کی ابدی خوشیوں میں داخلہ کا دن بن جائے گا۔ "سیلاب" سے پہلے آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی ہر ظالمانہ روش کو درست ثابت کرنے کے لئے شان دار الفاظ پالتا ہے۔ مگر "سیلاب" کی ہولناکی کو دیکھتے ہی اس کا سارا زور ختم ہو جائے گا اور ایسا معلوم ہوگا کہ یا اس کے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں جن سے وہ اپنی روش کی صفائی پیش کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues

Printed page