دنیا کی حقیقت
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۲۱
دنیا کی حقیقت
مسٹر آر۔ این پانڈے (۳۵ سال) ہندوستانی فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ تھے۔ وہ ۲ نومبر ۱۹۸۳ء کو جموں توی ایکسپریس پر سوار ہوئے۔ ٹرین آگے بڑھی تو انھیں احساس ہوا کہ وہ غلط ٹرین پر سوار ہو گئے ہیں۔ انھیں دراصل آجکل ایکسپریس پر سوار ہونا چاہئے تھا۔ جب وہ کھلا کا اسٹیشن آیا تو وہ فرسٹ کلاس کا دروازہ کھول کر باہر کو کود پڑے۔ ٹرین اس وقت پوری رفتار میں تھی۔ وہ پہیہ کے نیچے آگے اور اسی وقت کٹ کر مر گئے (ہندوستان ٹائمز ۱۳ نومبر ۱۹۸۳) یہ واقعہ موجودہ دنیا میں انسان کی بے بسی کی ایک تصویر ہے۔ انسان ٹرین بناتا ہے جب وہ اس پر بیٹھتا ہے تو وہ اس کو لے کر دوڑتی ہے اور منزل پر پہنچا دیتی ہے۔ مگر اسی ٹرین کے مقابلہ میں انسان اتنا کمزور ہے کہ اس کے پہیہ کے نیچے آنے کے بعد وہ اس کی زد سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا۔
ایک کامیاب انسان ہے ۔ وہ ایک بہت بڑے مکان میں رہتا ہے جو اس کی خوش حال زندگی کی علامت ہے۔ اس کے گھر کے سامنے موٹر کار کھڑی ہوتی ہے جو اس کی شان میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ ایک کارخانہ کا مالک ہے جو اس کی دولت اور ترقی کا سرچشمہ ہے۔ اس کے بے شمار ساتھی ہیں جو اس کی قوت وشوکت کا زندہ ثبوت ہیں۔
یہ وہ چیزیں ہیں جن سے آدمی کی دنیوی ترقی کا اندازہ کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ تمام چیزیں سمیٹ کر اوپر سے آدمی کے سر پر گرائی جائیں تو وہ اس کی بربادی کا ذریعہ بن جائیں گی۔ یہ گویا ایک بہت بڑا ملبہ ہوگا جو آدمی کے اوپر پڑ گیا اور اس کے نیچے دب کر اس کا وجود فنا ہو گیا۔ اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ دنیوی ترقی کی حقیقت کیا ہے۔ دنیا کی تمام ترقیاں اسی وقت تک ترقیاں نظر آتی ہیں جب تک وہ فریب کے روپ میں ہوں۔ جیسے ہی وہ اپنے اصلی روپ میں آئیں وہ صرف بربادی کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ یہ ترقیاں اپنے آخری انجام کے اعتبار سے کسی کے لئے قبرستان تو بن سکتیں ہیں مگر وہ کسی کے لئے کامیابی کا شاندار محل نہیں بن سکتیں۔
لذتیں جنت میں لذت ہیں اور دنیا میں صرف فریب لذت۔ انسان کی غلطی یہ ہے کہ جو چیز جنت میں ملنے والی ہے اس کو وہ موجودہ دنیا ہی میں پا چاہٹا ہے۔ نتیجہ یہ ہے آدمی یہاں بھی محروم رہتا ہے اور روہاں بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues