اس وقت کیا ہوگا
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۲۰
اس وقت کیا ہوگا
بخاری نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا کہ مجھے قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر سناؤ (اقرار علیٰ) میں نے کہا، اے خدا کے رسول میں آپ کو قرآن سناؤں اور وہ آپ کے اوپر اترا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں، مجھے پسند ہے کہ میں قرآن کو اپنے سوا دوسرے سے سنوں۔ میں نے سورہ نساء پڑھنی شروع کی۔ یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا : فكيف اذا جئنا من كل امة بشهيد وجئناك بهؤلاء شهید (اور پھر کیا ہوگا جب ہم ہر قوم سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور ان لوگوں پر تم کو گواہ بنا کر لائیں گے) آپ نے فرمایا، بس کرو۔ میں نے دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے (ف اذا عينا کا تن ر فان )
وہ وقت کیسا عجیب ہوگا جب خدا کی عدالت قائم ہوگی۔ کسی کے لئے ڈھٹائی اور انکار کا موقع نہ ہوگا۔ وہی شخص جس کو دنیا میں لوگوں نے بے قیمت سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا اسی کو خدا کی طرف سے اس خاص بندہ کی حیثیت سے سامنے لایا جائے گا جس کو خدا نے اپنی طرف سے لوگوں کو آنے والے دن سے باخبر کرنے کے لئے چنا تھا ۔ جس کو لوگوں نے اپنے درمیان سب سے کمزور آدمی سمجھ لیا تھا وہی اس وقت خدا کے حکم سے وہ شخص ہوگا جس کی گواہی پر لوگوں کے لئے جنت اور جہنم کا فیصلہ کیا جائے۔ ان لوگوں کا اس وقت کیا حال ہوگا جو دنیا میں بہت بولنے والے تھے مگر وہاں اپنے آپ کو گونگا پائیں گے۔ جو دنیا میں عزت اور طاقت والے سمجھے جاتے تھے وہاں اپنے آپ کو بالکل بے زور دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔ جب ان کا ظاہری پردہ اتارا جائے گا اور لوگ دیکھیں گے کہ دین کا لبادہ پہننے والے دین سے بالکل خالی تھے۔ جب کتنی سفیدیاں کالی نظر آئیں گی اور کتنی رونقیں اتنی قبیح ہو جائیں گی کہ لوگ اس کی طرف نظر کرنے سے بھی گھبر آئیں گے۔
موجودہ دنیا میں لوگ مصنوعی غلافوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ کسی کے لئے خوبصورت الفاظ اس کی اندرونی حالت کا پردہ بنے ہوئے ہیں اور کسی کے لئے اس کی مادی رونقیں۔ مگر آخرت میں لوگوں کے الفاظ بھٹی ان سے چھن جائیں گے اور ان کی مادی رونقیں بھی ۔ اس وقت ہر آدمی اپنی اصلی صورت میں سامنے آجائے گا۔ کیسا سخت ہوگا وہ دن ۔ اگر آج لوگوں کو اس کا اندازہ ہو جائے تو ان کے الفاظ کی شدت ختم ہو جائے ، کسی چیز میں ان کے لئے لذت باقی نہ رہے۔ دنیا کی عزت بھی ان کو اتنی ہی بے معنی معلوم ہو جتنا دنیا کی بے عزتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues