Al-Risala · January 1984 · page 17

دعوتی مشن

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۱۷

دعوتی مشن

ایک غیر مسلم ایک مولوی صاحب کے یہاں آیا اور یہ سوال کیا کہ اسلام کیا ہے۔ مولوی صاحب نے بہت اچھے انداز میں اس کے سامنے توحید اور آخرت اور مساوات بنی آدم کی تشریح کی۔ غیر مسلم جب چلا گیا تو کچھ مسلمان جو وہاں بیٹھے ہوئے یہ باتیں سن رہے تھے، انھوں نے مولوی صاحب سے کہا: حضرت، ہم آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ ہم کو وسیلہ اور زیارت قبر جیسے مسائل کی تفصیل بتاتے ہیں۔ اور غیر مسلم نے آپ سے اسلام کے بارہ میں پوچھا تو آپ نے اس کو دوسری باتیں بتائیں۔ کیا ہمارا اسلام اور ہے اور ان کا اسلام اور۔ اس کے جواب میں مولوی صاحب نے کہا: "اجی ، یہ غیر مسلم ہمارے ان جھگڑوں کو کیا سمجھیں گے ۔ ان کو تو اسلام کی بنیادی باتیں ہی بتائی جا سکتی ہیں"۔

مسلمانوں کو آج جہاں دیکھیے ، آپس کے جھگڑوں میں مبتلا ہیں۔ شیعہ اور سنی کا جھگڑا، دیوبندی اور بریلوی کا جھگڑا ، حنفی اور اہل حدیث کا جھگڑا ۔ ایک جماعت اور دوسری جماعت کا جھگڑا۔ اور یہ سب کچھ عین اسلام کے نام پر ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اسلام ان کے نزدیک صرف آپس کے بحث اور جھگڑے کا نام ہے۔

مگر یہی مسلمان جو آپس میں معمولی مسائل اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے جھگڑتے ہیں، انہیں کو اگر غیر مسلموں کے سامنے اسلام پیش کرنا ہو تو وہ سنجیدہ اور حقیقت پسند بن جاتے ہیں ۔ وہ جھگڑے والی باتوں کو حذف کر کے ان کے سامنے وہ اسلام پیش کرتے ہیں جو بنیادی ہے اور جس میں ایک فرقہ اور دوسرے فرقہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی تمام موجودہ خرابیوں کا سبب یہ ہے کہ وہ دعوت اسلام اور شہادت علی الناس کے کام سے ہٹ گئے ہیں۔ دوبارہ ان کی اصلاح کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ان کو دعوت اسلام اور شہادت علی الناس کے کام پر لگایا جائے۔

دعوت عام کا کام عین اپنی فطرت کے اعتبار سے آدمی کو اسلام کی بنیادی باتوں کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ فردی چیزیں اپنے آپ حذف ہو جاتی ہیں جو اختلافات کا اصل سبب ہیں۔ غیر مسلموں میں خدا کے دین کو پہنچانے کا کام بیک وقت دعوتی ذمہ داری کی ادائیگی بھی ہے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے اختلافات کو ختم کرنے کی موثر ترین تدبیر بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues

Printed page