آخری منزل
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۲۵
پیش آیا، اس کا حال کسی کو معلوم نہیں ۔ ایک سال بعد تن زنگ نارگے اوپر چڑھ رہا تھا کہ اس کو ایک مقام پر مورس ولسن کی لاش ملی اور اسی کے ساتھ اس کی ڈائری بھی۔ جس کا آخری اندراج وہ جملہ تھا جس کو ہم نے اوپر نقل کیا ہے ۔
موریس ولسن ہمالیہ کی بلند ترین چوٹی پر خودکار کیمرہ کے ذریعہ اپنی تصویر کھینچنا چاہتا تھا اس کو امید تھی کہ کیمرہ کی آنکھ اس کو فتح کی چوٹی پر دیکھے گی ۔ جب یہ تاریخ آئی تو وہاں نہ کوئی ولسن تھا جو اپنی فتح دکا کامیابی کو دیکھ کر خوش ہو، اور نہ کوئی کیمرہ تھا جو اس کی فتح وکامیابی کے واقعہ کو ریکارڈ کرے ۔
یہ کہانی بدلی ہوئی صورت میں ہر آدمی کی کہانی ہے ۔ ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کامیابی کی چوٹی پر پہنچنے کی طرف آگے بڑھ رہا ہے ۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ یہاں ہر آدمی صرف ایک ایسی منزل کی جانب چلا جا رہا ہے جہاں موت کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں جو اس کا استقبال کرنے کیلئے موجود ہو ۔
موجودہ دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جو دنیوی کامیابیوں کی صرف تمنا کرتے رہتے ہیں ۔ اور بالآخر اس طرح مرجاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی خوابوں کی دنیا کی طرف سفر بھی شروع نہیں کیا تھا۔
دوسرے لوگ وہ ہیں جو اپنی زندگی میں ، کم یا زیادہ ، ان خواہشوں کو پالیتے ہیں ۔ مگر پانے والے بھی ان چیزوں سے اتنا ہی دور رہتے ہیں جتنا کہ نہ پانے والے ۔ کیونکہ ان کو پالینے کے بعد آدمی پر کھلتا ہے کہ اس کو وہ طاقت اور مواقع حاصل نہیں جو ان چیزوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ضروری ہیں ۔ اس دنیا میں پانے والا بھی اتناہی محروم ہے جتنا نہ پانے والا ۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں ۔ انسان کتنازیادہ محروم ہے ۔ مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ پانے والا سمجھتا ہے۔ زندگی کس قدر غیر یقینی ہے مگر آدمی اس کو کس قدر یقینی سمجھ لیتا ہے ۔ آدمی صرف نامعلوم کل کے راستہ پر جارہا ہے مگر وہ گمان کرلیتا ہے کہ وہ معلوم آج میں اپنی کامیاب دنیا تعمیر کر رہا ہے ۔
کتنے بے خبر ہیں وہ لوگ جو اپنے کو جاننے والا سمجھتے ہیں ۔ کیسے ناکام ہیں وہ لوگ جن کا نام کامیابی انسانوں کی فہرست میں سب سے آگے لکھا ہوا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues