موت کے دوسری طرف
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۲۹
موت کے دوسری طرف
سکندرِ اعظم نے بڑی بڑی فتوحات کیں۔ مگر جب آخر وقت آیا تو اس نے کہا: میں دنیا کو فتح کرنا چاہتا تھا۔ مگر موت نے مجھ کو فتح کر لیا۔ افسوس کہ مجھ کو زندگی کا وہ سکون بھی حاصل نہ ہو سکا، جو ایک معمولی آدمی کو حاصل ہوتا ہے۔ نپولین بونا پارٹ کے آخری احساسات یہ تھے: مایوسی میرے نزدیک جرم تھی مگر آج مجھ سے زیادہ مایوس انسان دنیا میں کوئی نہیں۔ میں دو چیزوں کا بھوکا تھا۔ ایک حکومت، دوسرے محبت۔ حکومت مجھے ملی مگر وہ میرا ساتھ نہ دے سکی۔ محبت کو میں نے بہت تلاش کیا مگر میں نے اسے کبھی نہیں پایا۔ انسان کی زندگی اگر یہی ہے جو مجھ کو ملی تو یقیناً انسانی زندگی ایک بے معنی چیز ہے کیوں کہ اس کا انجام مایوسی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ ہارون الرشید ایک بہت بڑی سلطنت کا حکمران تھا۔ مگر آخر عمر میں اس نے کہا: میں نے ساری عمر غم غلط کرنے کی کوشش کی، پھر بھی میں غم غلط نہ کر سکا۔ میں نے بے حد غم اور فکر کی زندگی گزاری ہے۔ زندگی کا کوئی دن ایسا نہیں جو میں نے بے فکری کے ساتھ گزارا ہو۔ اب میں موت کے کنارے ہوں۔ جلد ہی قبر میرے جسم کو نگل لے گی۔ یہی ہر انسان کا آخری انجام ہے مگر ہر انسان اپنے انجام سے غافل رہتا ہے۔ خلیفہ منصور عباسی کی موت کا وقت آیا تو اس نے کہا: اگر میں کچھ دن اور زندہ رہتا تو اس حکومت کو آگ لگا دیتا جس نے مجھے بار بار سچائی سے ہٹا دیا، حقیقت یہ ہے کہ ایک نیکی اس ساری حکومت سے بہتر ہے۔ مگر یہ بات مجھ کو اس وقت معلوم ہوئی جب موت نے مجھے اپنے چنگل میں لے لیا۔
دنیا کے اکثر کامیاب ترین انسانوں نے اس احساس کے ساتھ جان دی ہے کہ وہ دنیا کے ناکام ترین انسان تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کے قریب پہنچ کر آدمی پر تو کچھ گزرتی ہے اگر وہی اس موت سے پہلے گزر جائے تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔ ہر آدمی جب موت کے کنارے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی وہ تمام رونقیں راکھ کے ڈھیر سے بھی زیادہ یہ حقیقت معلوم ہوتی ہیں جن میں وہ اس قدر گم تھا کہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچنے کی اسے فرصت ہی نہ ملی۔ اس کے پیچھے ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جس کو وہ کھو چکا اور آگے ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جس کے لئے اس نے کچھ نہیں کیا۔
موت جب سر پر آجائے اس وقت موت کو یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ موت کو یاد کرنے کا وقت اس سے پہلے ہے۔ جب آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ دوسروں پر ظلم کرے اور اپنی ظالمانہ کارروائیوں کو عین انصاف کہے اس وقت وہ کچھ سوچنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اس وقت وہ اپنی انا کی تسکین کے لئے وہ سب کچھ کر ڈالتا ہے جو اس کو نہیں کرنا چاہئے۔ مگر جب اس کی طاقت ختم ہو جاتی ہے، جب اس کے الفاظ جواب دینے لگتے ہیں، جب اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ موت کے بے رحم فرشتہ کے قبضہ میں ہے اس وقت اس کو اپنی غلطیاں یاد آنے لگی ہیں۔ حالاں کہ یاد آنے کا وقت وہ تھا جب وہ غلطیاں کر رہا تھا اور کسی نصیحت کی پروا کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues