پانچ سیکنڈ کا فاصلہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۲۷
پانچ سیکنڈ کا فاصلہ
۳ جون ۱۹۷۹ء کو راقم الحروف میرٹھ میں تھا۔ شام کا وقت تھا ۔ میں اور مولانا شکیل احمد قاسمی صدر بازار کی سڑک پر ایک ساتھ جا رہے تھے ۔
اس کے بعد اچانک ایک واقعہ ہوا۔ ہمارے سامنے ایک مکان کے آگے کا حصہ دھماکہ کے ساتھ گر پڑا۔ اینٹ اور پتھر سڑک پر ڈھیر ہو گئے۔ اس وقت ہم دونوں جائے حادثہ سے بمشکل پانچ سیکنڈ کی مسافت پر تھے۔ اگر ہم پانچ سیکنڈ آگے ہوتے یا مکان پانچ سیکنڈ بعد گرتا تو یقیناً ہم دونوں اس کی زد میں آجاتے ۔ ہمارا سفر شاید درمیان ہی میں ختم ہو جاتا جس کی منزل ہم نے بہت آگے سمجھ رکھی تھی۔
میں نے سوچا۔ آدمی اور اس کی موت کے درمیان صرف پانچ سیکنڈ کا فاصلہ ہے۔ کسی بھی آدمی کے لئے ہر آن یہ اندیشہ ہے کہ اس کا پانچ سیکنڈ کا سفر پورا ہو جائے اور اچانک وہ اپنے آپ کو دوسری دنیا میں پائے۔
آدمی اگر اچھی طرح اس بات کو جان لے کہ اس کے اور موت کے درمیان صرف پانچ سیکنڈ کا فاصلہ ہے تو اس کی دنیا بالکل بدل جائے ۔ وہ ایک اور ہی قسم کا انسان بن جائے ۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت میں جینے لگے ۔
زندگی کا راز یہ ہے کہ آدمی اس بات کو جان لے کہ وہ ہر وقت موت کے کنارے کھڑا ہوا ہے ۔ ایسی موت جس کے منا بعد آدمی ، حدیث کے الفاظ میں، یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہو جاتا ہے ، یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں جا گرتا ہے۔ آدمی کا ہر قدم اس کو دو انتہائی انجام میں سے کسی ایک انجام کے قریب پہنچا رہا ہے۔ مگر انسان اتنا بے حس بنا ہوا ہے کہ اس کو اس کی خبر نہیں۔
لوگ جھوٹی خدا پرستی پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ آخرت میں صرف حقیقی خدا پرستی کسی شخص کے کام آئے گی ۔ حقیقی خدا پرستی یہ ہے کہ آدمی اس طرح اللہ سے ڈرنے لگے کہ وہ اس کے ذہن پر چھا جائے ، وہ اس کے صبح و شام کا نگراں بن جائے۔ وہ جو کچھ کرے یہ سمجھ کر کرے کہ وہ خدا کے سامنے ایسا کر رہا ہے ۔ اس کو دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر ستانے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues