Al-Risala · April 1984 · page 39

جب موت ہر چیز کو باطل کردے گی

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۳۹

جب موت ہر چیز کو باطل کردے گی

وہ وقت کیسا عجیب ہوگا جب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ عمل کے نام پر دنیا میں وہ جو کچھ کرتے رہے وہ بے علمی کی بدترین شکل تھی لوگ دنیا میں اپنے آپ کو اوپر اٹھا کر فخر کرتے رہے حالانکہ ان کے لئے قابل فخر بات یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے آگے جھکا دیں۔ وہ اپنی غلطیوں کی توجیہہ وتأویل کو کامیابی سمجھتے رہے حالانکہ ان کی کامیابی یہ تھی کہ وہ اپنی غلطیوں کے کھلے دل سے اعتراف کر لیں۔ ان کو الفاظ اس لئے دئے گئے تھے کہ ان کو اللہ کی تعریف میں استعمال کریں۔ مگر وہ اپنے الفاظ کے ذخیرہ کو انسان کی تعریف میں خرچ کرتے رہے۔ ان کے اندر خوف ومحبت کے نازک جذبات اس لئے رکھے گئے تھے کہ وہ ان کو خدا کے لئے وقف کردیں۔ مگر وہ دوسری چیزوں کو اپنے خوف ومحبت کے جذبات کا مرکز بناتے رہے۔ انھوں نے مال جمع کرنے کو سب سے بڑی چیز سمجھا حالانکہ ان کے لئے سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ وہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے کر بے مال ہو جائیں۔ ان کا اصلی کمال یہ تھا کہ وہ کمزوروں کا لحاظ کریں مگر وہ کمزوروں کو نظر انداز کر کے طاقت وروں کا استقبال کرتے رہے۔ ان کے لئے زیادہ بہتر یہ تھا کہ معانی کے خاموش سمندر میں غوطہ لگائیں مگر وہ شور وغل کے ہنگامے کھڑے کرنے میں مشغول رہے۔ ان کی ترقی کا راز یہ تھا کہ وہ اپنی ذات کا احتساب کرنے والے بنیں مگر وہ دوسروں کا احتساب کرنے میں مصروف رہے۔ ان سے یہ مطلوب تھا کہ دنیا کا مال یادنیا کی عزت پائیں تو اس کو بے حقیقت سمجھیں اور اس سے بے رغبتی کا ثبوت دیں مگر اسی کو وہ سب سے بڑی چیز سمجھ بیٹھے۔

آج کی دنیا میں لوگ دوسروں کے ظلم کا اعلان کرنے کے بہادر بنے ہوئے ہیں ، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ اصل بہادری یہ تھی کہ وہ خود اپنے ظلم کو جاننے کے بہادر بنیں۔ لوگ کسی نہ کسی غیر خدا کا دامن تھام کر سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے اپنے لئے مضبوط پناہ حاصل کرلی ، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ خدا کے سوا کوئی نہ تھاجو کسی کے لئے پناہ بن سکے۔ لوگ الفاظ بول کر اپنے کو بری الذمہ سمجھ رہے ہیں۔ اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ یہ صرف حقائق تھے جو کسی کو بری الذمہ کر سکتے تھے۔ لوگ دنیا کے اسباب کو اکٹھا کرکے مطمئن ہیں کہ جو کچھ ان کو پانا تھا وہ انھوں نے پالیا، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب موت ان کی ہر چیز کو باطل کردے گی اور ان کو معلوم ہوگا کہ انھوں نے کچھ بھی نہیں پایا تھا۔ لوگ دوسروں کی غلطیوں کی فہرست مرتب کر رہا ہے ہیں، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب فرشتے خود ان کی غلطیوں کی فہرست ان کے سامنے پیش کریں گے۔ لوگ زندگی کو اصل مسئلہ سمجھے ہوئے ہیں۔ اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ ان کا اصل مسئلہ موت تھا نہ کہ دنیا کی چند روزہ زندگی۔ لوگ اپنے خود ساختہ معیار کے مطابق پاکراپنے کو برتی سمجھ رہے ہیں ، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ حق پر صرف وہ تھا جو اللہ کے مقرر کئے ہوئے معیار کے مطابق تھا۔ لوگ استقبال کرنے والوں کی بھیڑ پا کر اپنے کو خوش قسمت سمجھ رہے ہیں ، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا ان کو معلوم ہوگا کہ خوش قسمت صرف وہ تھا جس کے استقبال کے لئے اللہ اور اس کے فرشتہ اس کا انتظار کر رہے تھے۔ ہر آدمی نے اپنی خوش خیالیوں کی ایک دنیا بنا رکھی ہے اور اپنے آپ کو اس کے اندر پا کر مطمئن ہے۔ مگر قیامت ایسے تمام گھروندوں کو توڑ دے گی۔ اس وقت صرف وہ شخص محفوظ ہوگا جو خدا کے " گھر " میں پناہ پکڑے ہوئے تھا، جس نے اپنے لئے خدا کا سایہ حاصل کر لیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues

Printed page