جہنم کا خطرہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۳۸
جہنم کا خطرہ
خدا نے انسان کو اس کی بناوٹ کے اعتبار سے جنتی نفسیات کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کے بعد اس کو موجودہ دنیا میں ڈال دیا جہاں ایسے حالات ہیں جو آدمی کے اندر جہنی نفسیات کو ابھارتے ہیں۔ اب جو شخص اسفل سافلین میں رہتے ہوئے اپنے کو احسن تقویم کی سطح پر لے جائے، بالفاظ دیگر جہنی نفسیات کو ابھارنے والے ماحول میں دوبارہ اپنے اندر چھپی ہوئی جنتی نفسیات کو بیدار کرے تو وہی وہ شخص ہے جو مرنے کے بعد اللہ کے پڑوس میں اور اس کی نعمتوں میں جگہ پائے گا۔ باقی لوگ دھوئیں اور آگ کی دنیا میں عذاب سہنے کے لئے چھوڑ دیئے جائیں گے (امین) موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس لئے اس کو اسی ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں بار بار آدمی کے لئے آزمائشی حالات پیدا ہوں۔ یہاں نفع اور نقصان کے معاملات ہیں جو آدمی کے اندر حرص، طمع اور خود غرضی کے احساسات ابھارتے ہیں۔ یہاں سطحی دل چسپیاں ہیں جو آدمی کو شہوت پرستی، نشہ بازی اور لذتیت کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہاں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کا مقابلہ پیش آتا ہے جس کی وجہ سے آدمی کے اندر خود پرستی اور انانیت کا شیطان جاگتا ہے۔ یہاں مفادات کا ٹکراؤ ہے جس کی وجہ سے غصہ، نفرت اور کمینہ پن کے جذبات بھڑکتے ہیں۔ یہی موجودہ دنیا کا ” اسفل سافلین“ ہونا ہے۔ آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے اوپر اٹھائے اور اپنے کو ”احسن تقویم“ کی سطح پر لے جائے جو باعتبار پیدائش اس کی حقیقی سطح ہے۔ ایک پھل اندر سے اچھا ہے یا خراب، اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ اسے توڑا جائے۔ یہی حال انسان کا ہے۔ کوئی انسان جنتی نفسیات میں جی رہا ہے یا جہنمی نفسیات میں، اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ اس کی ہستی کو توڑا جائے۔ جب آدمی کے ساتھ کسی قسم کی ناموافق صورت حال پیش آتی ہے تو اس وقت اس کی ہستی ٹوٹ جاتی ہے۔ ایسے موقع پر آدمی جو رد عمل ظاہر کرتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہنی تقویم کی سطح پر تھا یا جہنمی تقویم کی سطح پر۔ جب دو آدمیوں کے درمیان روپیہ یا جائیداد کا جھگڑا کھڑا ہوتا ہے۔ جب دو صاحب معاملہ افراد کے درمیان کوئی کھٹ پٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ جب دو الگ الگ خیال رکھنے والوں کے درمیان رائے کا اختلاف ہو جاتا ہے۔ جب ایک منصب کے دو دعویداروں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے تو یہی وہ مواقع ہوتے ہیں جب کہ یہ پتہ چلتا ہے کہ آدمی حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے۔ ایسے مواقع پر جو شخص نفرت، خود غرضی، بے انصافی اور انانیت کا مظاہرہ کرے وہ اپنے اس عمل سے ثابت کرتا ہے کہ وہ جہنمی نفسیات میں جی رہا تھا، وہ ابلیس اور شیطان کا پڑوسی تھا۔ اس کے برعکس جو شخص کار عمل ان مواقع پر محبت، بے غرضی، انصاف پسندی اور تواضع کی صورت میں ظاہر ہو وہ یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ جنتی نفسیات میں جی رہا ہے، اس کے روز و شب خدا اور اس کے فرشتوں کے پڑوس میں گزرتے ہیں۔ جو شخص دنیا میں شیطان کا پڑوسی ہے، آخرت میں بھی اس کو شیطان ہی کا پڑوس حاصل ہوگا اور جو شخص دنیا میں خدا اور فرشتوں کا پڑوسی ہے، وہ آخرت میں بھی خدا اور فرشتوں کے پڑوس میں رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues