Al-Risala · April 1984 · page 41

خدا سے ڈرو

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۴۱

خدا سے ڈرو

آج کوئی بستی ایسی نہیں ہے جہاں ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر ظلم نہ کر رہا ہو۔ آج مسلمان اپنے بھائی کو ستانے کے لئے سب سے زیادہ شیر بنا ہوا ہے۔ مگر لوگ کس آدمی کو ستاتے ہیں۔ اس آدمی کو جو ان کی نظر میں کمزور ہو۔ جو دادا گیری کرتا نہ ہو، جس نے اپنے آگے پیچھے ساتھیوں کی فوج نہ جمع کر رکھی ہو، جو پولیس اور کچہری سے دور رہنا چاہتا ہو۔ لوگ بے زوروں کے لئے بہادر ہیں اور جو شخص لوگوں کو زور آور دکھائی دیتا ہو اس کے لئے کوئی بہادر نہیں۔

مگر یہ اندھے پن کی آنکھ سے دیکھنا ہے۔ اگر ان کے پاس دیکھنے والی آنکھ ہو تو وہ سب سے زیادہ اس سے ڈریں جس کو وہ بے زور سمجھتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص بے زور ہے اس کے پیچھے خدا کھڑا ہوا ہے۔

دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ آزمائش کے منصوبہ کے تحت ہو رہا ہے۔ خدا کو جانچ کر ہر شخص کے بارے میں جاننا ہے کہ ان میں سے کون ہے جو اللہ سے ڈرنے والا ہے اور وہ کون ہے جو اللہ سے بے خوف ہے۔ اس کی جانچ کیسے ہو۔ اس کی جانچ ان اشخاص کی سطح پر نہیں ہو سکتی جو اپنی زور آوری کی وجہ سے لوگوں کو مرعوب کئے رہتے ہیں، جن کی طاقت دیکھ کر لوگوں کو ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ان کے خلاف اگر لوگ برائی نہ کریں تو یہ ان کی اپنی طاقت سے ڈرنے کی وجہ سے ہو گا نہ کہ خدا کے ڈر کی وجہ سے۔

مگر ایک شخص ہے جس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں جو لوگوں کو مرعوب اور خوف زدہ کرتی ہے۔ اس کو ستانے سے اگر کوئی شخص بچتا ہے تو اس کی وجہ یقیناً اخلاقی ہوگی نہ کہ مادی۔ خدا کچھ افراد کو بے زور اور بے حیثیت بنا کر لوگوں کے درمیان رکھتا ہے اور پھر ان کو دیکھتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ جو شخص کمزور آدمی کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرا وہ گویا خدا سے ڈرا، اس کا ٹھکانا جنت ہو گا۔ جو شخص کمزور آدمی کے ساتھ بے انصافی کرنے سے نہیں ڈرا وہ گویا خدا سے نہیں ڈرا، ایسا شخص جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں دھکیل دیا جائے گا۔ ہر آدمی بری زندگی گزار کر مر جاتا ہے تاکہ موت کے بعد اور زیادہ بری زندگی کی طرف دھکیل دیا جائے !

اہم

‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues

Printed page