Al-Risala · April 1984 · page 42

جب حقیقت کھلے گی

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۴۲

جب حقیقت کھلے گی

دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے نہیں ہیں۔ وہ دکھاوے کے لئے خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال آخرت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہاں جب کہا جائے گا کہ اپنے رب کو سجدہ کرو تو وہ وہاں سجدہ نہ کر سکیں گے (قرآن ۲۲ - ۶۸)

سجدہ محض ایک وقتی اور رسمی نوعیت کا جسمانی فعل نہیں۔ وہ اپنے آپ کو حقیقتِ اعلیٰ کے آگے جھکانا ہے، وہ اپنی پوری زندگی کو حق و صداقت کے تابع بنا دینا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت میں محدود معنوں میں صرف "سجدہ" کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ آیت پوری زندگی کے بارہ میں ایک اہم حقیقت کو بتا رہی ہے۔

موجودہ دنیا میں ہر شخص اور ہر قوم کا یہ حال ہے کہ ان کے دل سچائی کے آگے جھکے ہوئے نہیں ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو حق کے تابع نہیں بنایا ہے۔ مگر ظاہری رویہ میں ہر ایک یہ دکھا رہا ہے کہ وہ حق پر قائم ہے۔ ہر ایک اپنی زبان سے ایسے الفاظ بول رہا ہے گویا کہ اس کا کیس انسان کا کیس ہے نہ کہ ظلم اور استغلال کا کیس۔

مگر اس قسم کی دھاندلی صرف موجودہ استعانی دنیا میں ممکن ہے۔ آخرت کے آتے ہی پوری صورت حال بالکل بدل جائے گی۔ بازار میں کھوٹے سکے چل سکتے ہیں مگر بنک میں کھوٹے سکے نہیں چلتے۔ اسی طرح آخرت میں اس کا امکان ختم ہو جائے گا کہ کوئی جھوٹی بات کوچے الفاظ میں بیان کرے ۔ کوئی بے انصافی کے عمل کو انصاف کا عمل ثابت کرے۔

آخرت میں یہ ہوگا کہ الفاظ جھوٹے معانی کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔ کسی کے لئے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ ظلم کو انصاف بتائے اور باطل کو حق کے لباس میں پیش کرے۔ اس وقت ظاہر اور باطن کا فرق ختم ہو جائے گا۔ آدمی کی زبان وہی بول سکے گی جو اس کے دل میں ہے۔ اس دن ہر آدمی عین اس روپ میں دکھائی دے گا جو باعتبار حقیقت تھا نہ کہ اس روپ میں جو وہ مصنوعی طور پر دوسروں کے سامنے ظاہر کر رہا تھا۔

لوگ انسان کے سامنے اپنے آپ کو حق بجانب دکھاکر مطمئن ہیں کہ وہ حق بجانب ثابت ہو گئے۔ حالانکہ حق بجانب وہ ہے جو خدا کے سامنے حق بجانب ثابت ہو۔ اور وہاں کا حال یہ ہے کہ وہاں صرف حق حق ثابت ہوگا اور جو باطل ہے وہ وہاں صرف باطل ہو کر رہ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues

Printed page