"چل گئی تو موتی لال ، نہیں چلی تو جواہر لال" ،
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۱۹
انگریزی اخبارات کے خلاف جو شیلے بیانات دیتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے انگریزی اخبار کے نام پر بڑے بڑے چندے وصول کرتے ہیں مگر یہ سب کچھ محض لفظی پہلوانی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج تک مسلمانوں کا انگریزی اخبار وجود میں نہ آسکا۔ نہ یہی ممکن ہوا کہ موجودہ انگریزی اخبارات میں مسلمانوں کی کوئی قابل ذکر نمائندگی ہو سکے۔
دوسری طرف اس معاملہ میں ہمسایہ قوموں کا حال دیکھئے ۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہندوستان کی آزادی سے پہلے ہندوستان کی انگریزی صحافت انگریزوں یا انگریزوں کے تربیت یافتہ افراد کے ہاتھ میں تھی یہی لوگ اس وقت ملک کی انگریزی صحافت پر چھائے ہوئے تھے۔ آزادی کے بعد یہ سوال تھا کہ اب اس ملک میں انگریزی صحافت پر کس کا قبضہ ہو۔
اس وقت حالت یہ تھی کہ سارے ہندوستان میں صرف بمبئی یونیورسٹی میں جرنلزم کا ڈپلوما کورس تھا۔ ڈگری کے درجہ کی تعلیم کے لئے آدمی کو انگلینڈ جانا پڑتا تھا۔ اس وقت ایک سردار پروفیسر نے پنجاب یونیورسٹی (چنڈی گڑھ) میں جرنلزم کا ڈگری کورس شروع کیا۔ تاہم ابتداً اس شعبہ کو کوئی اہمیت حاصل نہ ہو سکی۔ بہت کم طلبہ اس میں داخلہ لینا پسند کرتے تھے۔ جب طلبہ کا پہلا دستہ نظری تعلیم مکمل کر چکا تو اس کی عملی تربیت کی ضرورت پیش آئی۔ مذکورہ پروفیسر ان کو لے کر دہلی آئے تاکہ یہاں کے بڑے بڑے اخبارات اور نیوز ایجنسیوں میں ان کو عملی تربیت کے لئے رکھ سکیں۔ مگر مشکل کچھ لوگ ان کو اپنے یہاں لینے کے لئے تیار ہوئے۔ تاہم پروفیسر نے اپنی کوشش جاری رکھی یہاں تک کہ ان کے پڑھائے ہوئے طلبہ عملی تربیت پا کر اخباری اداروں میں داخل ہونے لگے۔ دھیرے دھیرے یہ تناسب بڑھتا رہا۔ بالآخر یہ حال ہوا کہ یہ طلبہ اکثر اخباری اداروں میں نظر آنے لگے۔ پروفیسر موصوف نے اپنی رو داد بیان کرتے ہوئے ایک بار کہا پہلی بار جب میں دہلی آیا تھا تو یہاں کسی نے مجھ کو لفٹ نہ دی۔ مگر اب یہ حال ہے کہ میں انھیں اخباری دفتروں میں آتا ہوں تو آدھے آدمی میرے استقبال کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ میرے شاگرد ہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں کام کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ یہ ہے کسان کی طرح خاموشی کے ساتھ اپنے آپ کو نتیجہ خیز کام میں لگانا۔ مذکورہ واقعہ میں ایک شخص نے اپنے آپ کو ملک کی سو یونیورسٹیوں میں سے ایک یونیورسٹی کے ایک شعبہ میں وقف کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کی انگریزی صحافت پر اس کی قوم کا غلبہ ہو گیا۔ اس کے برعکس جو لوگ احتجاج اور مطالبہ کر رہے ہیں وہ اسی مدت میں کوئی بھی صحافتی مقام پیدا نہ کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues