ایٹمی ہلاکت
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۰
ایٹمی ہلاکت
امریکہ میں ایک فلم تیار ہوئی ہے جس کا نام ہے اگلے دن :
The Day After
اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ اگر ایٹمی جنگ ہوئی تو اس کے اگلے دن کیا ہو گا۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ جنگ کے بعد زمین کا نقشہ بالکل بدلا ہوا ہو گا۔ اور زندگی کا خاتمہ ہو چکا ہو گا۔ حکومتِ امریکہ کا ردِ عمل اس فلم پر بہت سخت ہوا۔ کیونکہ امریکی حکومت ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر جو بے پناہ دولت خرچ کر رہی ہے وہ سب اس کی روشنی میں غلط ثابت ہوتا ہے۔ یہ بحث اتنی بڑھی کہ امریکی صدر رونالڈ ریگن کو ریڈیو پر ایک تقریر نشر کرنی پڑی۔ انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی جنگ میں اگر امریکہ کو نقصان پہنچے گا تو روس کو اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچے گا ، اور آزادی محفوظ رہ جائے گی ۔ While the U.S. is being hurt, the Russians are being hurt more, and the freedom and liberty will survive. ان لوگوں کی قسمت بھی کیسی عجیب ہوگی جو ایٹمی جنگ کے بعد آزادی پائیں گے۔ روس کے سابق وزیر اعظم نکیتا خرو شچیف اگرچہ خود بھی ایٹمی جنگ کی آگ بھڑکانے میں شریک تھے۔ تا ہم انھوں نے اس قسم کے عذر کے لئے بجا طور پر کہا تھا :
It is a case of the living envying the dead
یعنی یہ ایک ایسی زندگی ہوگی جب کہ زندہ رہنے والوں کو مُردوں پر رشک آئے (ٹائمز آف انڈیا ۲۲ نومبر ۱۹۸۳)
۲۰ نومبر ۱۹۸۳ کو دو نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل (Javier Perez de Cuellar) سے مل کر ایک یادداشت ان کے حوالے کی (ٹائمز آف انڈیا ۲۱ نومبر ۱۹۸۳) اس یادداشت پر بارہ ہزار سائنس دانوں کے دستخط ہیں جو کہ چالیس سے زیادہ ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذکورہ نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کے نام یہ ہیں : 1. Mr. Philip Anderson (Princeton University)
2. Mr. James Cronin (Chicago University)
اس یادداشت میں اقوام متحدہ کی معرفت ایٹمی طاقتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں پر
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues