Al-Risala · April 1984 · page 22

آج بویا کل کاٹنا

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۲۲

آج بویا کل کاٹنا

گھنشيام داس برلا (۱۹۸۳-۱۸۹۳) راجستھان کے ایک گاؤں پلانی میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ ایک معمولی آدمی تھے اور کلکتہ میں جُوٹ کے دلال کے طور پر کام کرتے تھے۔ چودہ سال کی عمر میں مسٹر برلا بھی کلکتہ چلے گئے اور وہاں اپنے باپ کے کام میں مدد کرنے لگے۔

مسٹر برلا کو ایک روز کلکتہ کے کسی تجارتی دفتر کی عمارت میں اوپر کی منزل پر جانا تھا۔ وہ جب لفٹ میں سوار ہونے لگے تو انھیں روک دیا گیا۔ کیوں کہ یہ لفٹ صرف انگریز افسروں کے استعمال کے لئے تھی ۔ جب وہ سیڑھیوں پر چڑھ کر اوپر پہنچے تو وہاں بھی ان کو کری پر بیٹھنے کی اجازت نہیں ملی۔ ان کو ایک پنچ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا گیا جو چپراسیوں کے لئے مخصوص تھی۔ تاہم نوجوان برلا اس پنچ پر نہیں بیٹھے اور کام ہونے تک برابر کھڑے رہے۔

انگریزی دور میں مذکورہ بالا قسم کے تجربات نے مسٹر برلا کے اندر قومی آزادی کے خیالات پیدا کر دئے ۔ وہ تحریک آزادی میں مہاتما گاندھی کے ساتھی بن گئے۔ یہ وہ دور تھا جب کہ سرمایہ دار طبقہ کانگریس کے قریب آنے سے گھبراتا تھا۔ مگر مسٹر برلا نہایت دوربین اور حوصلہ مند آدمی تھے ۔ انھوں نے ۱۹۴۷ سے پہلے کی کانگریس میں ، ۱۹۴۷ کے بعد کی کانگریس کی جھلک دیکھ لی ۔ انھوں نے قومی تحریک کے دور کے ہندوستان میں آزادی کے دور کے ہندوستان کا مشاہدہ کر لیا ۔ انھوں نے اس راز کو پالیا کہ آج کے " لیڈر “، کل کے " وزیر “، ہوں گے ، آج اگر وہ ان لیڈروں کی مدد کریں تو کل وہ ان سے زبردست فائدے حاصل کر سکتے ہیں ۔ چنانچہ انھوں نے آزادی کی تحریک کی باقاعدہ مالی مدد شروع کر دی ۔ کہا جاتا ہے کہ ۱۹۴۷ تک وہ اس سلسلے میں گاندھی جی کو اور کانگریس پارٹی کو تقریباً ۲۰ کروڑ روپے دے چکے تھے۔

آزادی کے بعد مسٹر برلا کو اس کا زبردست فائدہ حاصل ہوا۔ نئی حکومت کی طرف سے ان کو ہر قسم کی غیر معمولی سہولتیں ملنا شروع ہو گئیں ۔ انھوں نے اتنی تیزی سے ترقی کی کہ آزاد ہندوستان کے سب سے بڑے صنعت کار بن گئے۔ آج برلا کا خاندان ہندوستان کا سب سے زیادہ دولتند خاندان سمجھا جاتا ہے۔

جو آدمی آج بوتا ہے وہی آدمی کل کاٹتا ہے۔ یہ بات آج کی دنیا کے لئے بھی صحیح ہے اور یہی کل کی دنیا کے لئے بھی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues

Printed page