Al-Risala · April 1984 · page 45

موت کے کنارے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۴۵

موت کے کنارے

آج وہ بے وقت مجھ سے ملنے آگیا تھا اور بہت کم ٹھہرا۔ خلاف معمول اس نے چائے بھی قبول نہیں کی "مُجھے بہت جلد گھر پہنچنا ہے۔ وہاں میری بیوی میرا انتظار کر رہی ہوگی"۔ اس نے کہا اور اپنا اسکوٹر اسٹارٹ کرکے تیزی سے روانہ ہو گیا۔ اس کی واپسی کو بمشکل آدھ گھنٹہ ہوا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اس کی بیوی گھبرائی ہوئی آواز میں بول رہی تھی "آپ کے دوست کا ۔ ۔ یہ" اس نے کہا۔ بظاہر اس کا جملہ آدھورا تھا۔ مگر اس کے رونے کی آواز نے اس کو پورا کر دیا۔ میں ٹیلی فون بند کر کے فوراً اس کے گھر کی طرف بھاگا۔ معلوم ہوا کہ اس کا انتقال ہو چکا ہے۔ مجھ سے رخصت ہو کر وہ اپنے گھر پہنچا۔ ابھی سیڑھیوں ہی پر تھا کہ لڑھک کر گر پڑا۔ لوگ اٹھا کر اندر لے گئے۔ فوراً ڈاکٹر بلایا گیا مگر ڈاکٹر نے آکر صرف یہ خبر دی کہ وہ اس دنیا سے جا چکا ہے۔

اسکوٹر پر سوار ہو کر وہ میرے یہاں سے روانہ ہوا تو بظاہر وہ اپنے گھر جا رہا تھا۔ مگر حقیقتاً وہ موت کی طرف جا رہا تھا۔ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں۔ اس طرح کے واقعات ہر روز اور ہر جگہ پیش آ رہے ہیں۔ ۲۶ مئی ۱۹۷۹ کو امریکہ کا ایک بڑا جیٹ جہاز جس میں ۲۷۲ مسافر سوار تھے، اوہرے (O'Hare) ہوائی اڈے سے اڑا۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ زمین پر گر گیا ۔ جہاز سمیت سارے مسافر جل کر راکھ ہو گئے۔ یہ معاملہ چند انسانوں کا نہیں بلکہ یہی معاملہ تمام انسانوں کا ہے۔ سارے انسان جو زمین پر چلتے اور دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ سب موت کی منزل کی طرف جا رہے ہیں۔ ہر آدمی سب سے زیادہ جس چیز کے قریب ہے وہ موت ہے۔ ہر آدمی موت کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔ ہر آدمی ہر آن اس خطرہ میں مبتلا ہے کہ اس کا آخری وقت آ جائے اور وہ اچانک اس دنیا سے اٹھا کر اگلی دنیا میں پہنچا دیا جائے، جہاں سے کسی کو واپس نہیں آنا ہے۔ جہاں آدمی کے لئے یا تو جنت ہے یا جہنم۔

ایک اندھا آدمی چلتے چلتے کنویں کے کنارے پہنچ جائے تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو کنویں کے خطرہ سے آگاہ کیا جائے ۔ حتیٰ کہ ایسے نازک موقع پر آدمی قبلہ وکعبہ کی زبان اور خود وصف کے قواعد تک بھول جاتا ہے اور بے اختیار پکار اٹھتا ہے "کنواں کنواں"۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ساری انسانیت اس سے بھی زیادہ خطرناک "کنویں" کے کنارے کھڑی ہوئی ہے۔ مگر ہر آدمی دوسرے دوسرے کاموں میں لگا ہوا ہے۔ کوئی شخص "کنواں کنواں" پکارنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی دیوانہ اس قسم کی پکار بلند کرے تو لوگوں کی طرف سے جواب ملتا ہے ـــــــ "یہ شخص قوم کو بزدلی کی نیند سلانا چاہتا ہے، وہ جہاد کے جذبہ کو ختم کر رہا ہے، وہ حقیقی مسائل سے لوگوں کو ہٹا دینا چاہتا ہے، وہ زندگی کا پیغام بر نہیں بلکہ موت کا داعی ہے۔ وہ مایوسی اور بے ہمتی کا سبق دے رہا ہے"۔

لوگ کنویں کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ محفوظ مکان میں ہیں۔ لوگ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر خوش ہیں کہ وہ زندگی کا سفر طے کر رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues

Printed page