Al-Risala · April 1984 · page 195

سب سے بڑی خبر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۱۹۵

سب سے بڑی خبر

ایک ایم سی نوجوان دہلی میں سرکاری ملازم ہیں۔ ان سے میری پرانی ملاقات ہے۔ ایک روز میں کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا، رات کو واپس آیا تو گھر والوں نے بتایا کہ آج مذکورہ نوجوان کئی بار آپ سے ملنے کے لئے آچکے ہیں۔ ابھی باتیں ہورہی تھیں کہ گھنٹی بجی۔ دروازہ کھولا گیا تو مذکورہ نوجوان تیسری بار مجھ سے ملنے کے لئے دروازے پر موجود تھے۔ مجھ کو دیکھتے ہی وہ مسکرا کر بولے ”آج میں آپ کو ایک خوش خبری دینے آیا ہوں“ اس کے بعد انھوں نے بتایا کہ میرا پروموشن ہو گیا ہے اور اب میری تنخواہ میں سور وپیہ ماہوار کا اضافہ ہو جائے گا۔ میں نے سوچا کہ آدمی کے پاس اگر کوئی اہم خبر ہو تو وہ اس کو چھپانے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ اہم خبر کو آدمی بتا کر رہتا ہے۔ بلکہ وہ ڈھونڈتا ہے کہ کوئی ملے تاکہ وہ اس کو بتا سکے۔ کسی نے نئی کار خریدی ہو یا نیا مکان بنایا ہو تو اس کا چرچا کئے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔ کسی مجلس میں اگر اس کی کار یا اس کا مکان موضوعِ گفتگو نہ ہو تو وہ کسی نہ کسی طرح موضوع کو بدل کر ایسے رخ پر لاتا ہے کہ وہ اپنی نئی کار اور نئے مکان کی خبر لوگوں کو دے سکے۔ یہ انسانی فطرت ہے۔ کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی اہم خبر کو دوسروں کو سنانے کے لئے بے قرار نہ رہتا ہو۔ آج بے شمار آوازیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی پیغام ہے جس کو وہ دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ مگر سنانے والوں کی بھیڑ میں کوئی آخرت کی خبر سنانے والا نہیں۔ کوئی جنت اور جہنم سے آگاہ کرنے والا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بولنے اور لکھنے والوں کے پاس آخرت کی خبر ہی نہیں۔ ہر ایک کے پاس دنیا کی کوئی نہ کوئی خبر ہے۔ آخرت کی خبر کسی کے پاس موجود ہی نہیں۔ اگر کسی کے پاس آخرت کی خبر ہوتی تو وہ اس کو سنائے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ بلکہ آخرت کی غیر معمولی اہمیت کی بنا پر اس کا یہ حال ہوتا کہ اس کے لئے کوئی دوسری خبر خبر نہ ہوتی جس کو سنانے کے لئے وہ لوگوں کے سامنے کھڑا ہو۔ وہ اپنی ساری طاقت اور سارا وقت بس آخرت کی خبر سنانے میں لگا دیتا، جہنم سے ڈرانے اور جنت کی خوش خبری دینے کے سوا کوئی کام اس کو کام نظر نہ آتا۔ اگر یہ معلوم ہو کہ اگلے چند لمحہ کے بعد بھونچال آنے والا ہے یا آتش فشاں پھٹنے والا ہے تو ہر آدمی اسی کا تذکرہ کرنے میں مشغول ہوگا۔ ہر دوسری بات کو بھول کر لوگ آنے والے ہولناک لمحہ پر بات کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مگر تقریر کرنے والے تقریریں کر رہے ہیں اور مضامین لکھنے والے مضامین لکھ رہے ہیں مگر یہ سب چیزیں قیامت کے تذکرہ سے اس طرح خالی ہوتی ہیں جیسے کہ لوگوں کو آنے والے ہولناک دن کی خبر ہی نہیں۔ آدمی اکثر اپنے گردو پیش کے مسائل میں الجھا رہتا ہے، ذاتی یا قومی قسم کے معاشی اور سیاسی اور سماجی واقعات جن کا وہ اپنے آس پاس تجربہ کرتا ہے وہ انھیں کو واقعہ سمجھتا ہے اور انھیں کے چرچے میں مشغول رہتا ہے۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ قیامت کا مسئلہ ہے۔ قیامت ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے مگر دہ ہونے والے واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے، وہ تمام واقعات سے زیادہ اس قابل ہے کہ اس کا چرچا کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues

Printed page