ایک پکار
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۱۹۶
ایک پکار
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو دعوت حق کی ذمہ داری سونپی گئی تو آپ نے مکہ کے باشندوں کو صفا پہاڑی کے پاس جمع کیا اور فرمایا کہ اے لوگو، جس طرح تم سوتے ہو اسی طرح تم مرو گے۔ اوّل جس طرح تم جاگتے ہو اسی طرح تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ اس کے بعد یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم یہ سن کر ابو لہب نے کہا ، تمھارا برا ہو، کیا تم نے ہم کو اسی لئے بلایا تھا تب ہلاک تک، (ما جمعتنا الا لہذا) رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم جب مدینہ کے سردار بن کر مدینہ میں داخل ہوئے تو اس وقت بھی آپ نے اسی قسم کی تقریر فرمائی ۔ اس وقت بھی آپ کے پاس کہنے کی جو سب سے بڑی بات تھی وہ یہ تھی کہ اے لوگو اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو (اتقو النار ولو بشق تمرة)
اسلامی مرکز کا مقصد اسی پیغمبرانہ دعوت کو زندہ کرنا ہے۔ لوگ مسائل زندگی کے لئے اٹھے ہیں، ہم مسائل موت کے لئے اٹھے ہیں۔ کیا کوئی ہے جو اس مشن میں ہمارا ساتھ دے۔ لوگوں کو جنگ اور فساد کے شعلے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا کوئی ہے جس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے دکھائی دیتے ہوں تاکہ وہ ہمارا ساتھ دے کر دنیا والوں کو جہنم کے شعلوں سے ڈرائے۔
لوگوں کو شہروں کی رونقیں دکھائی دیتی ہیں۔ ہم ان انسانوں کی تلاش میں نکلے ہیں جن کو قبرستان کے ویرانے دکھائی دیں۔ ایسے انسانوں سے دنیا پٹی ہوئی ہے جن کو یہ محرمی بیتا ب کئے ہوئے ہے کہ ان کو کسی ادارہ میں داخلہ نہیں ملا۔ ہم کو وہ انسان درکار ہیں جن کو یہ غم بد حواس کر دے کہ کہیں وہ جنت کے داخلہ سے محروم نہ ہو جائیں۔ لوگ دنیا کی بربادی کا ماتم کر رہے ہیں۔ ہم ان انسانوں کو ڈھونڈ رہے ہیں جو آخرت کی بربادی کے اندیشے میں دیوانے ہو چکے ہوں۔
خدا کی دنیا میں آج سب کچھ ہو رہا ہے۔ مگر وہی ایک کام نہیں ہو رہا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ یعنی آنے والے ہولناک دن سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ اگر انسان اس پکار کے لئے نہ اٹھیں تو اسرافیل کا صور اسے پکارے گا۔ مگر آہ ، وہ وقت جاگنے کا نہیں ہوگا۔ وہ ہلاکت کا اعلان ہو گا نہ کہ آگاہی کا الارم۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues