قرآن محافظ ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۲
قرآن محافظ ہے
اللہ تعالیٰ نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے :
یَا اَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِغْ مَا اُنْزِلَ اِلَيْكَ اے رسول ، جو کچھ تمہارے اوپر اتارا گیا ہے اس مِنْ رَبِّكَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ کو لوگوں تک پہنچادو ۔ اور اگر تم نے اس کو نہیں وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ پہنچایا تو تم نے اپنی رسالت نہیں پہنچائی ۔ اور اللہ مائدہ : ۶۷ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔
اس آیت کے مطابق قرآن (اللہ کی اتاری ہوئی کتاب حاملین قرآن کے بچاؤ کی ضمانت ہے۔ قرآن کے حامل کو صرف قرآن کا حامل بنناہے۔ ۔ اس کے بعد اس کے تمام مسائل میں خدا اس کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
قرآن بلاشبہ اس دنیا میں ہمارا محافظ ہے۔ وہ جن وانس کے تمام فتتوں کے مقابلہ میں ہماری حفاظت کرتا ہے۔ مگر قرآن کو اپنا محافظ بنانے کی ایک لازمی شرط ہے۔ وہ یہ کہ ہم قرآن کے ساتھ غیر قرآن کو جمع نہ کریں۔ پانی کے ساتھ اگر آپ راکھ کو جمع کرلیں تو ایسا پانی آپ کی پیاس نہیں بجھاتا۔ کھانے کے ساتھ اگر آپ پتھر کو جمع کر لیں نو ایسا کھانا آپ کو سیر نہیں کرتا۔ پھر جس قرآن کے ساتھ غیر قرآن کو جمع کر لیا گیا ہو وہ حقیقی قرآن کے نتائج کس طرح دکھائے گا۔
قرآن چاہتا ہے کہ ہم اس کو تبلیغ کی کتاب بنائیں ۔ اس کے برعکس ہم اس کو برکت کی کتاب بنا کر چھوڑ دیں۔ قرآن چاہتا ہے کہ ہم دوسری اقوام کو اپنا مدعو سمجھیں ، اس کے برعکس ہم ان کو اپنا حریف اور رقیب بنا ڈالیں۔ قرآن چاہتا ہے کہ ہم اس کو اپنی زندگی کے لئے رہنما کتاب بنائیں۔ اس کے برعکس ہم اس کو قومی فخر کی کتاب بنا ڈالیں۔ قرآن چاہتا ہے کہ ہم لوگوں کے درمیان خدائی اخلاقیات کے ساتھ رہیں۔ اس کے برعکس ہم ان کے درمیان شیطانی اخلاقیات کے ساتھ رہنے لگیں۔
اس قسم کا ہر عمل قرآن کے ساتھ گو یا غیر قرآن کو جمع کرنا ہے۔ اور جو لوگ قرآن کے ساتھ غیر قرآن کو جمع کریں۔ قرآن کبھی ان کا محافظ نہیں بن سکتا۔ یہ اعمال تو قرآن کو چھوڑنے کے ہم معنی ہیں۔ پھر جو لوگ قرآن کو چھوڑ چکے ہوں ان کی زندگی میں قرآن کے وہ نتائج کیسے نکل سکتے ہیں جو قرآن کو اپنے ساتھ لینے کی صورت میں نکلتے ہیں۔