اگلا پیراگراف
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۳
اگلا پیراگراف
ایک ناول نگار کا واقعہ ہے۔ اس نے ایک ناول لکھا۔ یہ ناول بہت زیادہ ضخیم تھا۔ اس کو دیکھ کر اس کے ایک دوست نے کہا"____ اف اتنا لمبا ناول ، اس کو لکھتے لکھتے تم اکتا نہیں گئے" ناول نگار نے فورا جو اب دیا :
" ہرگز نہیں۔ میری توجہ ہمیشہ پیراگراف پر لگی رہتی تھی"
انسانی زندگی بھی اسی قسم کی ایک طویل اکتا دینے والی کہانی ہے جو ہماری کامیابیوں اور ناکامیوں کے واقعات کے ساتھ ہر آن لکھی جارہی ہے۔ اس لمبی اور خشک کہانی سے مسلسل دل چسپی باقی رکھنے کی ایک ہی صورت ہے ۔ وہ یہ کہ آدمی کی توجہ، ہمیشہ کہانی کے اگلے پیرا گراف پر لگی رہے۔
یہی بات آخرت کے اعتبار سے بھی درست ہے۔ ایک شخص یہ فیصلہ کرے کہ وہ موجودہ دنیا میں حق کے مطابق زندگی گزارے گا۔ وہ وہی کرے گا جو کرنا چاہئے اور وہ نہیں کرے گا جو نہیں کرنا چاہئے۔ ایسے شخص کو بہت جلد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے " پانے" کے بجائے " کھونے" کی راہ اختیار کی ہے۔ اس کو موجودہ دنیا میں اپنی محنتوں اور قربانیوں کا صلہ نہیں ملتا۔
جن لوگوں کو اس نے ملانا چاہا تھا وہ شکایتیں لے کر الگ ہوجاتے ہیں۔ جن لوگوں کو اس نے اپنا ساتھی سمجھا تھا وہ اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ جن لوگوں کی خاطر اس نے اپنی زندگی ویران کردی تھی ان سے اسے صرف الزامات کے تحفے حاصل ہوتے ہیں۔ دوسرے لوگ اس سے کم محنت کر کے اپنا " محل " کھڑا کر لیتے ہیں اور اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان سے زیادہ محنت کرنے کے باوجود اس کا " جھونپڑا " بھی تیار نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں حق کے راستہ پر قائم رہنے کی ایک ہی صورت ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنی توجہ آخرت کی طرف لگائے۔ اس کی نظر کہانی کے اگلے پیرا گراف " پر مرتکز رہے۔ کوئی بڑی کامیابی اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جو" آج " کی محرومی کے بجائے " کل " کی یافت پر نگاہ رکھے۔ جو کچھ کل ملنے والا ہے اس کی خاطر وہ آج کو نظرانداز کردے۔