Al-Risala · May 1984 · page 6

معاشی فراغت

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۶

معاشی فراغت

محمد بن جریر الطبری (۳۱۰ - ۲۲۴ ھ) ایک انتہائی مشہور عالم ہیں۔ وہ طبرستان میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد انھوں نے علم کی تحصیل کے لئے رے، کوفہ، بصرہ، شام، مصر، بغداد وغیرہ کے سفر کئے ۔ اپنی پوری عمر تحقیق اور تصنیف میں گزار دی۔ ان کے بارے میں ایک مورخ لکھتا ہے : قيل انه كان يكتب كل يوم۴۰ صفحة کہا جاتا ہے کہ وہ روزا چالیس صفحات لکھتے تھے ويتحيرون متى ينام ومتى ياكل ويصلى اور لوگ حیرت کرتے تھے کہ وہ کب سوتے ہیں وذلك لكثرة ماصنفه في الآثار ونحو والفقه اور کب کھاتے ہیں اور کب نماز پڑھتے ہیں۔ یہ اس والحديث والتفسير والقرآت وعلم الحساب لئے کہ انھوں نے تاریخ ، فقہ ، حدیث ، تفسیر، قرآت اور علم حساب میں کثرت سے کتابیں لکھیں۔

ابن جریر طبری کی تفسیر کی کتاب ۳۰ جلدوں میں ہے اور قرآن کے مطالعہ کے لئے بے حد اہم سمجھی جاتی ہے۔ ان کی کتاب تاریخ الرسل والملوک اپنے موضوع پر منفرد کتاب ہے۔ عربی اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے والا اس سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ ابن جریر طبری کی فارسی دانی ان کے لئے بہت معاون ثابت ہوئی اور انھوں نے فارسی مصادر سے معلومات حاصل کرکے اپنی کتاب میں شامل کیں۔

ابن جریر طبری نے اپنی زندگی کو علم کے لئے وقف کیا اور اہم ترین کتا بیں تصنیف کیں ۔ اس کی وجہ ان کی معاشی فراغت نہ تھی:

كان والد الطبري يملك مقاطعة في ابن جریر طبری کے والد کی طبرستان میں ایک طبرستان فنشأ ابن جرير غير محتاج جائیداد تھی۔ اس کی وجہ سے ابن جریر نے کمانے کی لكسب . اذ كان والده ينفق عليه واستمر محتاجی کے بغیر نشو و نما پائی۔ ان کے والد ان کا هذا الانفاق يؤدى اليه حتى بعد وفاة خرچ دیتے رہتے تھے۔ یہ معاملہ والد کی وفات ابيه وهو ينتقل بين البلاد کے بعد بھی باقی تھا۔ وہ ایک ملک سے دوسرے ملک جاتے رہتے اور ان کا خرچ انھیں ملتا رہتا۔

کوئی موثر کام کرنے کے لئے معاشی فراغت ضروری ہے۔ اس کی اہمیت دینی کام کے لئے بھی ہے اور دنیوی کام کے لئے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page