تکرار
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۵
تکرار
"گیتانجلی" رابندر ناتھ ٹیگور کی مشہور کتاب ہے۔ اسی کتاب کے انگریزی ترجمہ پر ان کو نوبل انعام ملا تھا۔ یہ کتاب اصلاً بنگلہ زبان میں لکھی گئی تھی اس کے بعد اس کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوا۔ اس کی ایک نظم کا دو مصرعہ یہ ہے:
میں تجھ کو چاہتا ہوں، صرف تجھ کو اور کسی کو نہیں۔
میرے دل کو اس آرزو کی تکرار بے نہایت کرنے دے۔
کسی چیز سے جب آدمی کا تعلق دل چسپی اور محبت کے درجہ کا ہو جائے تو وہاں تکرار کا تصور ختم ہو جاتا ہے پھر اس کی ہر تکرار آدمی کو نیا لطف دیتی ہے۔ اس کی تکرار سے آدمی کبھی نہیں اکتاتا۔ اس کی ایک عام سگریٹ ہے۔ آدمی اسی سگریٹ کو بار بار پیتا ہے اور روزانہ پیتا رہتا ہے۔ مگر اس کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ ایک چیز کی تکرار کر رہا ہے۔ حالانکہ اسی شخص کو اگر کوئی غیرمرغوب چیز دی جائے تو دو چار بار کے استعمال کے بعد وہ اس سے اکتا جائے گا اور اس کو تکرار کہہ کر چھوڑ دے گا۔
میں نے کئی بار ایسے نوجوان دیکھے ہیں جنہوں نے ابھی کوئی پکچر دیکھی تھی۔ اگرچہ ان میں سے ہر ایک اس پکچر کو دیکھے ہوئے تھا مگر وہ اس کی کہانی اور اس کے مکالمے اس طرح ایک دوسرے کو سنا رہے تھے جیسے کہ وہ کوئی نئی بات کہہ رہے ہوں اور سننے والے اس کو اس طرح سن رہے تھے جیسے وہ بالکل نئی بات سن رہے ہوں۔ پکچر کے ساتھ ان کی بڑھی ہوئی دل چسپی نے ان کے لئے تکرار کا تصور حذف کر دیا تھا۔ جب کسی کے سامنے کوئی بات کہی جائے اور وہ اس کو "تکرار" کہہ کر بے لطف ہونے لگے تو سمجھ لیجئے کہ یہ بات اس کی زندگی میں دل چسپی بن کر داخل نہیں ہوئی ہے۔ اگر وہ اس کے لئے حقیقی دل چسپی کی چیز ہوتی تو اس کی ہر تکرار اس کو نیا لطف دیتی نہ یہ کہ وہ اس کو بے لطف بنا دے۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ہر ماہ پابندی سے شائع ہو رہا ہے۔ اس کی ایجنسی لیکر اس کو عام کرنے میں تعاون کیجئے