تخلیق کی حکمت
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۸
تخلیق کی حکمت
ہندوستان 1984 میں روس کے تعاون سے اپنے دو آدمی خلا میں بھیجے گا۔ ان کے نام ہیں : مسٹر رویش ملہوترا اور مسٹر راکیش شرما۔ ان دونوں ہوابازوں نے 1983 میں دس مہینے روس کے خلائی سنٹر (Star City) میں گزارے ہیں۔ دس مہینہ کی ٹریننگ میں ان کو جو چیزیں سکھائی گئیں ان میں سے ایک روسی زبان بھی تھی۔
بنگلور کی ایک پریس کانفرنس در ہندوستان ٹائنس 24 جولائی 1983) میں ان خلا بازوں نے خلا کے بارہ میں بعض دلچسپ چیزیں بتائیں۔ انھوں نے بتایا کہ خلائی پرواز کے دوران آدمی تقریباً چھ سینٹی میٹر لمبا ہو جاتا ہے۔ مگر اس کی اصل لمبائی اس وقت واپس آ جاتی ہے جب کہ وہ دوبارہ زمین پر اترتا ہے۔ لمبائی کا یہ فرق جسم کے اوپر فضا کے دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے:
One would gain about six centimetres in height during a space flight, but would get back to one's normal height soon after returning to earth with the atmospheric pressure acting on the vertebrate. خلا میں انسانی جسم کا لمبا ہو جانا بے وزنی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وزن یا بے وزنی دونوں قوت کشش کے اثر سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہماری زمین بے حد صحیح اندازہ کے مطابق بنائی گئی ہے۔ اس لئے یہاں ہر آدمی کا قد نہایت متناسب ہوتا ہے، نہ چھوٹا اور نہ بڑا۔ زمین کی جسامت اگر موجودہ جسامت کے مقابلہ میں نصف ہو جائے تو اس کی قوت کشش گھٹ جائے گی۔ اس کے نتیجہ میں انسان غیر متناسب طور پر لمبے قد کے ہونے لگیں گے۔ موجودہ معتدل قد کے انسانوں کے بجائے ہر طرف لمبے لمبے انسان دکھائی دیں گے۔ ایک ایسی دنیا کا تصور کیجیے جہاں موجودہ معتدل قد کے انسانوں کے بجائے ہر طرف اونٹ جیسے انسان کھڑے ہوئے نظر آتے ہوں اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ زمین کی جسامت موجودہ جسامت کے مقابلہ میں دونا ہو جائے تو اس کی قوت کشش بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جسم کا بڑھنا رک جائے گا۔ شیر کی جسامت گھٹ کر بلی جیسی ہو جائے گی اور انسان کا یہ حال ہوگا کہ وہ اپنے موجودہ خوب صورت قد کو کھو دے گا اور زمین ان چھوٹے چھوٹے انسانوں کی بستی بن جائے گی جن کو ہم بونا کہہ کر مسکراتے ہیں۔ تخلیق خداوندی کی یہی وہ حکمت ہے جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے ــــــــ وكل شي عندہ بمقدار ( الرعد ۸)