Al-Risala · May 1984 · page 9

اسلام کیا ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۹

اسلام کیا ہے

آغاز اسلام کے ۳۰۰ سال بعد دسویں صدی عیسوی میں یہ حال تھا کہ آباد دنیا کے بیشتر حصہ پر اسلامی حکومت اور اسلامی تہذیب قائم ہوچکی تھی۔ یہ ایک وسیع سلطنت تھی جس کا مذہبی مرکز مکہ اور ثقافتی و سیاسی مرکز بغداد تھا۔ مغرب میں یہ سلطنت پورے شمالی افریقہ اور بحراوقیانوس کے ساحل تک پھیلی ہوئی تھی، اس کے آگے پورا اسپین (سوائے استوریا کے)، اور سلی اور کریٹ کے جزائر بھی اس میں شامل تھے۔ قبرص تک اس کے اثرات پہنچ چکے تھے۔

اسی طرح جنوبی اٹلی کا شہر باری اسلامی حکومت کے ماتحت تھا اور بعض دوسرے مقامات (مثلاً مالفی) اس کے دائرہ اقتدار میں سمجھے جاتے تھے۔ عرب کے شمال میں شام، آرمینیا اور مشرقی قفقاز اسلام کے مستقل مقبوضات تھے اور مشرق میں پورا عراق، ایران اور پورا افغانستان اس کے حدود میں شامل تھا۔ ان ملکوں کے شمال میں، ماوراء النہر، مغرب میں خوارزم کا علاقہ اور مغرب میں فرغانہ کی وادیاں اور پہاڑ بھی مملکت اسلامی کا حصہ تھے۔ مسلمان دریائے سندھ کو آٹھویں صدی عیسوی میں عبور کر چکے تھے اور اس کے تمام زیریں حصے ان کے قبضہ میں تھے۔

اسلام کی یہ فتوحات خدا کی خاص مدد کے ذریعے حاصل ہوئیں۔ ان کے پیچھے خدا کی عظیم مصلحت شامل تھی۔ اور وہ تھی دنیا سے شرک کا خاتمہ اور قرآن کی حفاظت کا انتظام۔ یہ دونوں کام مکمل طور پر انجام پائے۔

تاہم یہی چیز بعد کے مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا فتنہ بن گئی۔ وہ اسلام کو اس کی سیاسی تاریخ کی روشنی میں دیکھنے لگے۔ حالانکہ اسلام کو اس کی ابتدائی تعلیمات کی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔ آج ایک مسلمان جب اسلام کے احیاء کی بات سوچتا ہے تو اس کے ذہنی سانچہ میں فوراً " تاریخ کا احیاء آجاتا ہے۔ وہ " فتوحات " کی تاریخ زندہ کرنے کو اسلام کو زندہ کرنے کے ہم معنی سمجھ لیتا ہے ۔ جب کہ اسلام کو زندہ کرنا یہ ہے کہ ایسے افراد تیار کئے جائیں جو خدا کی عظمت و جلال کو محسوس کرنے والے اور اس سے ڈرنے والے ہوں۔ جو دوسرے انسانوں کے ساتھ معاملہ کریں تو یہ سمجھ کر کریں کہ خدا کے یہاں اس کے بارے میں ان سے پوچھ ہوگی۔ جو دنیا میں آخرت کی خاطر جئیں جو جہنم سے بچاؤ اور جنت میں داخلہ کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ بنالیں۔ اسلام آخرت کا عنوان ہے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو وہ دنیا کا عنوان بن کر رہ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page