بیکار بھاؤ بکو گے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۲
ایک سفر
مارچ 1984میں الجا معۃ الاسلامیہ کی دعوت پر مدینہ (سعودی عرب) کا سفر ہوا ۔ وہاں ایک ہفتہ کے لئے راقم الحروف کے لکچر وں کا پروگرام تھا (اس کی تفصیل الگ سفرنامہ میں ملاحظہ فرمائیں) مدینہ سے واپسی میں میں اور مولانامحمد ہاشم الہ قاسمی ۱۳ مارچ کی دو پہر کوریاض پہنچے۔ ریاض قدیم زمانہ میں ایک گاؤں تھا جس کا نام حجر الیمامہ تھا۔ شہر میں گھومتے ہوئے اب بھی کہیں کہیں کچی اینٹوں کی دیواروں کی صورت میں قدیم بستی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ تاہم آج کا ریاض پورے معنوں میں ایک جدید شہر ہے جو سعود ی عرب کا دار السلطنت ہے۔
ریاض میں پہاڑ دکھائی نہیں دیتے۔ یہ غیر معمولی طور پر بڑا اور منصوبہ بند شہر ہے۔ اس کا بیشتر حصہ صحرا میں بسایا گیا ہے۔ تشجیر (شوار ع کی اسکیموں نے صحرا میں خشک سڑکوں کو ہرا بھرا کر رکھا ہے۔ سڑکیں عام طور پر نہایت عمدہ اور بے حد کشادہ ہیں۔ تاہم یہ شہر ابھی " زیر تعمیر " مرحلہ میں ہے ۔ چنانچہ ہر طرف توڑنے اور بنانے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں ۔
۱۴ مارچ 1984 کو سعودی عرب کے سب سے بڑے عالم شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز کو ٹیلی فون پر بتایا گیا کہ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں ۔ وہ مجھ سے بخوبی واقف تھے ۔ انھوں نے کہا کہ ” شیخ سے میرا سلام کہو اور یہ کہو کہ آج دو پہر کا کھانا وہ میرے ساتھ کھائیں ۔ چنانچہ ہم لوگ ظہر کی نماز کے بعد ان کے مکان پر پہنچے۔
یہ غیر معمولی طور پر ایک بہت بڑا مکان تھا۔ ایک نہایت وسیع ہال میں نشست تھی۔ تقریباً بیس علماء کرسیوں پر موجود تھے۔ مجھ کو شیخ ابن باز کی بالکل قریبی کرسی پر بٹھایا گیا۔ اس کے بعد حسب معمول قہوہ آیا۔ آدمی نے پہلی پیالی شیخ ابن باز کی طرف بڑھائی۔ شیخ نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : فضل یا شیخ ! شیخ ابن باز نہایت عزت اور محبت کے ساتھ پیش آئے۔ زیادہ تر مسلم دنیا اور میرے کام کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ کھانا کھانے کے بعد دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
ریاض سے روانگی کے دن دوبارہ شیخ ابن باز سے ان کے دفتر میں ملنے گیا ۔ شیخ کا دفتر اتنا بڑا ہے کہ وہ حکومت کا سکریٹریٹ معلوم ہوتا ہے۔ شیخ ایک بہت بڑے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کرسیوں پر نشست تھی ۔ وہ عام طور پر لوگوں کو بیٹھے بیٹھے رخصت کر رہے تھے ۔ مگر جب میں سامنے آیا تو شیخ فوراً کھڑے ہو گئے اور دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ مجھ کو رخصت کیا۔