Al-Risala · May 1984 · page 11

بیکار بھاؤ بکو گے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۱

بیکار بھاؤ بکو گے

شری ہر دیو سنگھ المسٹ (۱۹۸۳ - ۱۹۴۷) انگریزی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ وہ اکثر سادہ مثالوں میں بڑی گہری باتیں کیا کرتے تھے۔

شھری المسٹ جی نے ایک بار اپنا ایک گیت سنایا۔ یہ گیت پنجابی زبان میں تھا۔ اس گیت میں موٹر کار کے پرزوں کو خطاب کیا گیا تھا۔ شاعر نے اپنے مخصوص انداز میں کہا تھا کہ اے پرزو، تم اپنے انجن کے ساتھ جڑے رہو۔ اسی میں تمہاری قیمت ہے۔ اگر تم اپنے انجن سے الگ ہو گئے تو یا د رکھو کہ تم اس دنیا میں بے کار لوہے کے بھاؤ بکو گے۔ یہ تمثیل بہت با معنی ہے۔ ایک مشین کے اندر بہت سے پرزے ہوتے ہیں۔ مگر پرزے کی اہمیت اپنی مشین سے جڑے رہنے میں ہے۔ مشین سے جڑ کر ایک پرزہ انجن کا حصہ ہوتا ہے۔ مجموعی اعتبار سے وہ انجن کہا جاتا ہے۔ لیکن پرزہ اگر اپنی مشین سے الگ ہو جائے تو وہ اپنی ساری اہمیت کھو دے گا۔ اب وہ کباڑ خانہ کا حصہ ہو گا نہ کہ مشین کا حصہ۔ اب اس کی قیمت ”لوہے کی ہو جائے گی جب کہ اس سے پہلے اس کی قیمت مشین کی تھی۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان اپنے پورے مجموعہ میں شامل ہو تو وہ عظیم تر مجموعہ کا جزر ہے۔ متحد ہونے کی صورت میں ایک فرد کی بھی وہی قیمت ہو جاتی ہے جو پورے مجموعہ کی قیمت ہے۔ مگر جو فرد اتحاد کے بندھن سے الگ ہو جائے وہ بس ایک فرد ہے۔ اس کی مثال اس پرزہ کی سی ہے جو اپنے انجن سے الگ ہو گیا ہو۔ ایسا پرزہ کباڑ خانہ میں جا کر لوہے کے بھاؤ بکتا ہے۔ اسی طرح فرد اپنے مجموعہ سے الگ ہو کر اپنی قیمت کھو دیتا ہے۔ پرزہ کو انجن کا جز ر رہنے کے لئے اپنی انفرادی ہستی کھو دینی پڑتی ہے۔ اسی طرح فرد کو بھی متحدہ مجموعہ کا جز ر بننے کے لئے اپنی انفرادیت کو کھونا پڑتا ہے۔ یقیناً فرد کے لئے یہ ایک بھاری قیمت ہے۔ مگر اس دنیا میں کوئی بھی چیز قیمت دئے بغیر نہیں ملتی۔ فرد کی تسکین کے لئے یہ کافی ہے کہ اس نے اتحاد کی جو قیمت دی تھی اس سے بڑی چیز اس نے اپنے لئے پالی۔ ”لوہا“ اگر اپنی انفرادیت کو کھو کر ”مشین“ کا درجہ حاصل کرلے تو یہ اس کے لئے کھونا نہیں ہے بلکہ وہ سب سے بڑی چیز پا لینا ہے جس کی وہ اس دنیا میں تمنا کر سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page