Al-Risala · May 1984 · page 14

بیکار بھاؤ بکو گے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۴

ڈاکٹر عبد العلیم عویس مصری ہیں اور نہایت ذہین ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کئی مصریوں نے اردو پڑھی ہے اور وہ اردو اتنی ہی اچھی جانتے ہیں جتنا کہ اہل زبان (هم يجيدون الاردية كاهلها) ان میں سے تین مصری اس وقت جاپان میں ہیں۔ ڈاکٹر عبد العلیم عویس نے اخبار الشرق الاوسط کے لئے میرا انٹرویو لیا۔ رياض میں ایک سعودی نوجوان عبد الله الشویعر سے ملاقات ایک یادگار ملاقات تھی۔ ان کے پاس میری تمام عربی کتابیں کئی کئی تعداد میں موجود ہیں۔ وہ خود پڑھنے کے علاوہ دوسروں کو بھی تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ ایک روز گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ واللہ ہم آپ سے صرف اللہ کی خاطر محبت کرتے ہیں۔ ہم کو تمام اسلامی مصنفین سے محبت ہے اور آپ اس میں چوٹی پر ہیں (وأنتم على قمتها) ساحل العاج کے ایک نوجوان ابوبکر اسماسی سے ملاقات ہوئی۔ وہ یہاں جامعۃ الامام میں کلیۃ الشریعۃ کے طالب علم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ساحل العاج کی آبادی ۱۰ ملین ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس میں سے45 فی صد ممسلمان ہیں۔ تاہم خود مسلمانوں کا خیال ہے کہ ان کی آبادی65 فی صد سے کم نہیں۔ یہاں کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔ صدر حکومت مسلمان ہے اور وزارت میں کئی مسلمان شامل ہیں۔ مذکورہ نوجوان سے میں نے پوچھا کہ ساحل العاج میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ انھوں نے کہا ہاں۔ مسلمانوں نے یہاں کی یونی ورسٹی میں شاندار مسجد بنا لی ہے۔ ٹیلی ویژن پر ہر جمعہ کو اسلامی پروگرام ہوتا ہے۔ ان کو حکومت ہر طرح کی سہولت دیتی ہے۔ وغیرہ۔ مگر اس کو انھوں نے حکومت کے ”تملق“ سے تعبیر کیا۔ یہ بھی عجیب ذہن ہے کہ حکومت اگر کچھ کرے تو وہ تملق ہے اور نہ کرے تو ظالم۔

انھوں نے بتایا کہ ساحل العاج میں لوگ کثرت سے مسلمان ہورہے ہیں۔ ایک مقام پر صرف ایک دن میں چار ہزار آدمی سلمان ہو گئے۔ میں نے پوچھا کہ کن لوگوں کی کوششوں سے ایسا ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا الفضل يرجع الى الله والى الكتب المترجمة الى الفرنسية 15 مارچ کو دوپہر کا کھانا شیخ الوعبد الرحمن بن عقیل الظاہری کے یہاں تھا۔ وہ اعلیٰ پایہ کے مصنف اور عالم ہیں۔ مگر ہندوستان میں اور عرب میں یہ فرق ہے کہ ہندوستان کے علماءء بول چال کے موقع پر بھی کتابی زبان بولتے ہیں۔ مگر اکثر عرب علما لکھتے وقت تو کتابی زبان لکھتے ہیں مگر بولنے کے وقت ان پر عوامی زبان کا اثر آجاتا ہے۔ مثلاً ہمارے میزبان نے ایک موقع پر گھر کے ایک لڑکے سے کہا: ايش تبغون (تم کیا چاہتے ہو اس طرح کی زبان سمجھنا ان لوگوں کے لئے کسی قدر مشکل ہوتا ہے جو صرف کتابی عربی سے واقف ہیں۔ عرب لوگ قہوہ اور چائے بہت پیتے ہیں۔ کھانے کے بعد چائے کا دور شروع ہوا تو میں نے چائے پینے سے معذرت کی۔ انھوں نے باصرار چائے کی پیالی دیتے ہوئے کہا : پیجیے ہضم کے عمل میں آسانی پیدا

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page