Al-Risala · May 1984 · page 15

بیکار بھاؤ بکو گے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۵

کرتا ہے (يسهل عملية الهضم انشاء الله)

ایک صاحب جو محامی (وکیل) ہیں اور یہاں کھانے میں شریک تھے، انھوں نے ایک گفتگو کے درمیان بڑے درد کے ساتھ کہا: الناس كلهم يا اخی متعطشون الی الاسلام (میرے بھائی، آج تمام لوگ اسلام کے پیاسہ ہیں)

۱۶ مارچ (بروز جمعہ) ڈاکٹر احمد تو تو نجی کو ٹیلی فون کیا گیا اور میری ریاض میں آمد کا ذکر کیا گیا ۔ وہ بہت خوش ہوئے اور فوراً کہا کہ انا احب الشيخ و احرص علی لقائه۔ مگر انھوں کہا کہ آج ہی دوپہر کو برونی (افریقہ) روانہ ہو رہا ہوں۔ تاہم میں نماز جمعہ کے فوراً بعد شیخ کی قیام گاہ پر آکر ان سے ملاقات کروں گا۔ جمعہ کی نماز ہم لوگوں نے مسجد سلیمانیہ میں ادا کی۔ ایک عرب با صرار اپنے ساتھ وہاں لے گئے تھے۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر لوٹے تو ڈاکٹر احمد تو تو نجی یہاں موجود تھے۔ مجھ کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔ بار بار کہتے رہے کہ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں۔ آپ کے کاموں کی ہمارے دل میں بہت قدر ہے۔ آپ ہمارا سرمایہ ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

وہ ایک خوبصورت قسم کا بند پیکٹ اپنے ساتھ لائے تھے جس پر لکھا ہوا تھا۔

هدیة الی الشيخ وحید الدین خان سلمه الله تعالى۔ شیخ احمد تو تو نجی سے میں نے کہا کہ یہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ آپ کے لئے ہے۔ میں نے کھولا تو اس کے اندر دو ایسی کتابیں تھیں جو عین میرا مطلوب تھیں۔ ایک قرآن کا جیبی نسخہ جو بائبل پیپر پر چھاپا گیا تھا۔ دوسرا حیات الصحابہ (مولانا محمد یوسف کاندھلوی) کی جلدیں دمشق کی چھپی ہوئی۔ مجھے قرآن کے مذکورہ نسخہ کی عرصہ سے تلاش تھی۔ اسی طرح حیات الصحابہ کا دمشق میں چھپا ہوا نسخہ بھی میں بہت چاہتا تھا۔ الحمد للہ کہ آج ڈاکٹر تو تو نجی کے ذریعہ دونوں چیزیں مجھے مل گئیں ڈاکٹر احمد تو تو نجی آج ہی بیرونی (افریقہ) جارہے تھے۔ چنانچہ انھوں نے دکستور طاہر جابر العلوانی کو مقرر کیا کہ ان کی غیر موجودگی میں وہ مجھ سے ملتے رہیں اور میری جو بھی ضرورت ہو اس میں میری معاونت فرمائیں۔

اصحاب رسول کی زندگیاں اسلام کا زندہ نمونہ ہیں۔ چنانچہ اصحاب رسول کے بارہ میں اسلاف نے کثرت سے کتابیں اور تراجم لکھے ہیں۔ تاہم اس موضوع پر قدیم کتابوں کا انداز یہ ہوتا ہے کہ ایک ایک صحابی کو عنوان بناکر اس کے تحت ان کے حالات لکھے جاتے ہیں۔ مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ کیسا کہ عملی عنوانات قائم کرکے اس کے تحت صحابہ کے احوال درج کئے۔ یہ ایک بے حد مشکل کام تھا جو

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page