بیکار بھاؤ بکو گے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۷
لبنان میں ایک چڑیا پائی جاتی ہے جس کو چو ہا خور (Mouse eater) کہتے ہیں، یہ باز سے کچھ بڑی ہوتی ہے اور عام طور سے بڑے درختوں کی اوپر کی شاخوں پر بیٹھتی ہے۔ اس چڑیا کے متعلق لبنان میں ایک لطیفہ مشہور ہے۔ صبح کو جب سورج نکلتا ہے تو وہ زمین پر اپنے سایہ کو دیکھتی ہے۔ اس وقت چوں کہ اس کو اپنا سایہ بہت بڑا نظر آتا ہے، وہ منصوبہ بناتی ہے کہ آج میں ایک اونٹ کو اپنی خوراک بناؤں گی۔ مگر جیسے جیسے سورج اونچا اٹھتا ہے اس کا سایہ چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دوپہر کے وقت اس کا سایہ بالکل چھوٹا ہو جاتا ہے۔ اب وہ اس پر قناعت کر لیتی ہے کہ ایک چوہا پکڑ کر اس کو کھا لے۔
ایسا ہی کچھ معاملہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ہو اہے فرضی تصور کے تحت اپنے کو "عظیم" سمجھ کر وہ بڑے بڑے منصوبے بناتے ہیں۔ مگر بالآخر ان کے حصہ میں جو چیز آتی ہے وہ صرف ایک " چھوٹا چوہا" ہے ۔ اور کبھی چھوٹا چوہا بھی نہیں۔
یہاں کے عربی اخبارات اب کافی ترقی یافتہ ہو چکے ہیں۔ مثلاً وہ ایسی چیزیں چھاپنے کی پوزیشن میں ہو گئے ہیں جو عام طور پر ہمارے اردو اخبارات کی دسترس سے باہر ہوتی ہیں۔ روز نامہ الشرق الاوسط (ریاض) کی اشاعت ۲۸ جنوری 1984 میں ایک مفصل مضمون نظر سے گذرا جس کا عنوان تھا:
وثائق الخارجية البريطانية السرية لعام ۱۹۵۳ - اس میں سابق برطانی وزیر اعظم سر ونٹن چرچل کے ایک خط کا حوالہ ہے جو ۲۲ اپریل ۱۹۵۳ کو لکھا گیا تھا۔ اس خط کے ایک حصہ کا عربی ترجمہ اخبار میں حسب ذیل الفاظ میں درج تھا :
ان آخر المعلومات السرية المتوفرة تظهر آخری خفیہ اطلاعات بتاتی ہیں کہ یہ کس قدر خطر ناک مدى خطورة السماح للأمور بالاستمرار ہو گا کہ حالات کو بدستور جاری رہنے دیا جائے جب کہ على حالها بينما يستخدم محمد نجيب المانا محمد نجیب (صدر مصر) نازی جرمنوں کو مصری فوج کی نازيين لتعليم الجيش المصري والإرهابيين تربیت کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور دہشت للتخريب وحرب العصابات پسندوں کو تخریب کاری اور گوریلا جنگ کے لئے تیار کر رہے ہیں۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۳۰ سال پہلے اسرائیل کے سرپرست عربوں سے کس قدر خوف زدہ تھے۔